بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے سے ہدیہ لینا


سوال

ایک شخص نے مجھے دو ہزار روپے بطور ہدیہ دیے لیکن اس کی کمائی حرام ہےتو کیا میں اس سے کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ اپنی بیٹی  کے لیے پیمپرز وغیرہ خرید سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کا مال صرف حرام آمدنی سے ہوتو ایسےشخص کی دعوت یاہدیہ  قبول کرنا جائز نہیں، تاہم اگر حلال وحرام مال مخلوط ہو اور حلال مال غالب ہو تو اس صورت میں اس سے  ہدیہ وغیرہ قبول کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر ہدیہ دینے والے کی ساری کمائی حرام  کی ہو تو اس سے ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں، البتہ اگر ہدیہ لے لیا ہوتو بیٹی کے لیے پیمپرز وغیرہ خریدنے کی بجائے  یہ رقم کسی محتاج کو صدقہ کیا جائے۔

أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:342)

‌وإلا ‌تصدقوا ‌بها ‌لأن ‌سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظروالإباحة، فصل في البیع، ج:6، ص:385)


فتویٰ نمبر : 5992/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں