بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

رمضان کی تیئسویں شب سورۃعنکبوت اور سورۃ روم کا اجتماعی طور پر "ختم" کرنا


سوال

 ہمارے گاؤں میں رمضان كی تیئسویں شب سورۃعنکبوت اور سورۃ روم کا اجتماعی طور پر"ختم" کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کو ضروری سمجھتے ہیں، مجمع میں سورۃ عنکبوت اور سورۃ روم کی تلاوت کا اعلان ہوتاہے، اگر کوئی اس میں شریک نہ ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن سننے کے لیے نہیں بیٹھتا، اگرکوئی نہ پڑھے تولوگ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن سے انکار کیا۔ الغرض اس میں شریک نہ ہونا علاقے میں انتشار کا باعث بنتاہے۔ حل طلب امور یہ ہیں:1۔کیا رمضان کی تیئسویں شب سورۃ عنکبوت اور سورۃ روم کا اجتماعی طور پر "ختم" کرنا شرعاً ثابت ہے یا نہیں؟2۔ اگر ثابت نہیں تو گاؤں میں انتشار سے بچنے کی غرض سےایسی مجلس میں شرکت کرنا علما اور طلبا کےلیے کیساہے؟

جواب

قرآن مجید کی تلاوت ایک بڑی عبادت ہے، لیکن کسی  عبادت کی قبولیت کے لیے اخلاص کے ساتھ اس کو شرعی طریقہ پر انجام دینا لازم ہے۔ لہذا قرآن مجید کی تلاوت کے لیے اپنی طرف سےکوئی طریقہ اختیار کرنا اور پھر اس کو ضروری سمجھنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  تیئسویں رمضان کی شب مخصوص سورتوں سورۃ عنکبوت اور سورۃ روم کا اجتماعی طور پر ختم کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ لہذا اگر کہیں ایسی محافل کا انعقاد کیاجاتا ہو، تو خواص یعنی علما اور طلبا وہاں شرکت کرنے سے اجتناب کریں، اور حکمت و بصیرت  کے ساتھ  لوگوں کو شریعت پر عمل  پیرا ہونے کی ترغیب دیں، اور اپنی طرف سے دین میں کمی وزیادتی کی وعیدات سے آگاہ کریں۔

 

ولأن ذكر الله تعالى ‌إذا ‌قصد ‌به ‌التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع.(البحر الرائق، كتاب الصلاة، باب العيدين، ج:2، ص:172)

"ويكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي" المتقدم ذكرها "في المساجد" وغيرها لأنه لم يفعله النبي صلى الله عليه وسلم ولا الصحابة فأنكره أكثر العلماء من أهل الحجاز منهم عطاء وابن أبي مليكة وفقهاء أهل المدينة وأصحاب مالك وغيرهم وقالوا ذلك كله بدعة.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب في النوافل، ص:151)

كل ‌مباح ‌يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه كتعيين السورة للصلاة وتعيين القراءة لوقت ونحوه صرح بذلك في القنية قبيل باب صلاة المسافر.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الفرائض، ج:2، ص:333)


فتویٰ نمبر : 5962/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں