بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کا والد کے گھر میں عدت وفات گزارنا


سوال

میں اور میرا شوہر الگ رہتے تھے اب میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور میرے گھر کے قریب  میرا کوئی دوسرا رشتہ دار  موجود نہیں کیا میں عدت وفات اپنے والد کے گھر گزار سکتی ہوں یا نہیں؟

جواب

جس عورت کا شوہر فوت ہو چکا ہو، اس پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے اور عدت اس گھر میں گزارے گی جس میں وہ شوہر کی زندگی میں رہتی تھی،بشرط یہ کہ وہاں پر  رہائش کی صورت میں  کوئی خطرہ نہ ہو، مثلاً: خوف، موت ،ضیاع جان و مال وغیرہ کا خطرہ  نہ ہو ، بصورت دیگراس کے لیے کسی اور جگہ بندوبست کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر خاتون کو خاوند کے گھر میں اکیلے عدت  گزارنے میں  کوئی خطرہ  ہو تو   اس کے لیے اپنے والد کے گھر عدت گزارنے میں کوئی حرج نہیں ۔

 

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ‌ولا ‌يخرجان ‌منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء ) ونحو ذلك من الضرورات.(ردالمحتار على الدرالمختار، ‌‌باب العدة، ‌‌فصل في الحداد،ج:٣،ص:٥٣٦)


فتویٰ نمبر : 7001/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں