بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کا پانی ذاتی ضروریات میں استعمال کرنا


سوال

ہم آلو چپس فروخت کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ ایک نانبائی بھی ہے، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بسا اوقات  پانی نہ ہونے کی وجہ سے  ہم  قریب مسجد سے پانی لے جاتے ہیں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے لیے مسجد کا پانی استعمال کرنا جائز نہیں، تو پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے لیے مسجد سے پانی لےجانا کیسا ہے؟

جواب

مسجد کا پانی خاص مسجد کی ضروریات کے لیے ہوتا ہے اس لیے اہل محلہ وغیرہ کے لیے مسجد سے پانی  باہر لے جاکر اپنی ذاتی ضروریات میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر واقف نے پانی وقف کرتے وقت اس کی اجازت دی ہو تو پھرکوئی مضائقہ نہیں، لیکن پھر بھی مسجد کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے گا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مسجد سے پانی دکانوں میں لے جاکر اپنی ذاتی ضروریات میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ 

 

‌ويكره ‌رفع ‌الجرة من السقاية وحملها إلى منزله، لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلافلا.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر۔۔۔، ج:5،ص:341)


فتویٰ نمبر : 5958/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں