بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا


سوال

ہم نے تیس سال پہلے اپنے حجرے میں ایک  مسجد بنائی تھی جس کی زمین  کو ہم نے وقف  نہیں کیا تھااور امامت کی ابتدا میں نے خود کی تھی اب ہم اس حجرے سے مسجد  کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور باہر سڑک کے قریب  مسجدبنانے کا ارادہ ہےجس کی زمین  کومسجد کے لیےوقف بھی کیا ہے، اب پوچھنا یہ ہےکہ ہم حجرے سے مسجد ختم کرسکتے ہیں یا نہیں، اور اس جگہ کو حجرے کے ساتھ شامل کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی جگہ کے شرعی مسجد بننے کے لیے شرط یہ ہےکہ اس کو مسجد کے لیے وقف کیا گیا ہو چنانچہ اگر وقف کیے بغیر کسی جگہ کو نماز کے لیے مختص کر لیا جائے تو اس سے وہ شرعی مسجد نہیں بنتی چاہے اس میں جتنے عرصے تک بھی نمازیں ادا ہوتی رہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاً حجرے میں بنائی گئی جگہ کو مسجد کے لیے وقف نہ کیا گیا ہو تو یہ مسجد شرعی نہیں بلکہ مصلی کے حکم میں ہے، لہذا اس کو حجرے سے ختم کرکے باہر سڑک کے قریب مسجد بنانا جائز ہے نیز ایسی جگہ کو حجرے میں داخل کر سکتے ہیں۔

 

الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات. (بدائع الصنائع، کتاب الوقف، ج: 8، ص: 396 )

ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله عن ملكه فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز. (الهداية، كتاب الوقف، ج:2،ص:622)

ولا بد من إفرازه أي تمييزه عن ملكه من جميع الوجوه فلو كان العلو مسجدا والسفل حوانيت أو بالعكس لا يزول ملكه لتعلق حق العبد به.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب في أحكام المساجد ،ج:4،ص:356)


فتویٰ نمبر : 5959/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں