بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

قعدہ اولیٰ چھوڑنے پر سجدہ سہو


سوال

اگر کسی شخص نے چار رکعت سنت والی نماز کی نیت باندھی  اور دوسری رکعت  میں قعدہ اولیٰ ادا نہیں کیا تو اس  کا کیا  حکم ہے؟ عمداً اور خطاًدونوں صورتوں کاحکم بیان فرمادیں، اور دونوں صورتوں یعنی عمداًاور خطاً  میں سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  فرض یا نفل نماز میں بھول کر کسی واجب کو چھوڑ دے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، لیکن اگر قصداً چھوڑ دیا ہو تو اس پر نماز کا اعادہ لازم ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سنت نماز کی دوسری رکعت میں قعدہ اولیٰ کو بھول کر چھوڑ دیا ہو تو اس پر سجدہ سہو لازم آتا ہے،البتہ قصداً چھوڑنے کی صورت  نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔

 

وحكم السهو في الفرض و النفل سواء.... الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع فرض و نفل و واجب .... و في الثالث إن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا كذا في التتارخانية، وظاهر كلام الجم الغفير أنه لايجب السجود في العمد و إنما تجب الإعادة جبراً لنقصانه. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:139)


فتویٰ نمبر : 10167/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں