بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک ہی صف میں مرد اور عورت کے درمیا ن کوئی چھوٹی بچی کھڑی کرنا


سوال

میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں رہتا ہوں ،جس میں عشاء کی نماز کے لیے عورتیں بھی آیا کرتی ہیں ۔زیادہ لوگوں کے آنے کی وجہ سے  اکثر اوقات مسجد سے باہر مردوں کی صفوں  میں عورتیں کھڑی ہوتی ہیں ، لیکن مردوں اور عورتوں کے مابین  چھوٹی بچی کھڑی کردیتے ہیں ،تو کیا مرد اور عورتوں کی ایک صف ہونے کی وجہ سے نماز  فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟  وضاحت فرمائیں۔

جواب

 کوئی ایسی لڑکی  جوشہوت کی عمر تک پہنچ  گئی ہواور وہ  کسی مرد کے برابرنماز میں اس طرح کھڑی ہوجائے کہ اس کے ٹخنےاور پنڈلیاں مرد کےٹخنوں اورپنڈلیوں کے برابر آجائیں اور ایک رکن اس حالت  میں ادا کرلے،اور  دونوں ایک  ہی نماز میں  ایک امام کی اقتدا میں ہوں تو مرد کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ تاہم اگرمرد و عورت کے درمیان حائل ہو تو نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مرد اورعورت کے مابین  کوئی بچی حائل ہوجائے اس  صورت میں مرد وں اورعورتوں دونوں کی نماز درست ہوجائے گی ۔

 

قوله: "ومحاذاة المشتهاة" أي ‌محاذاة ‌الرجل ‌المشتهاة وإنما قيد بالرجل إشارة إلى اشتراط كونه مكلفا وإلا فلا فساد كما في سكب الأنهر وقيد بالمشتهاة احترازا عن محاذاة الأمرد فإنها لا تفسد وشذ من أفسد بها ولا متمسك له في الرواية كما صرحوا به ولا في الدراية لتصريحهم بأن الفساد في المرأة غير معلول بعروض الشهوة بل يترك فرض المقام كما في الفتح وأطلق فيها فعمت الحرة والأمة والأجنبية والزوجة والعجوز الشوهاء والمشتهاة هي من تصلح للجماع ولا اعتبار بالسن كما صححه الشرح وغيره.(مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح، باب ما يفسد الصلاة،ص:88)

إمام ‌يصلي ‌برجال ‌ونساء وصف النساء بحذاء صف الرجال تفسد صلاة رجل واحد الذي بين الرجال والنساء وصار ذلك كسترة أو حائط بينهم وبينهن ألا يرى لو كان بين صف النساء وصف الرجال سترة قدر مؤخر الرجل كان ذلك سترة للرجال ولا تفسد صلاة واحد منهم.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الأول في مواقيت الصلاة..، الفصل الخامس في بيان الامام..،ج:1،ص:88)


فتویٰ نمبر : 10161/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں