بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کموڈ یا باتھ روم میں حشرات الارض کو مارنا


سوال

اگر کسی باتھ روم  یا کموڈ میں حشرات الارض(کیڑے مکوڑے) موجود ہوں تو  اس باتھ روم یا کموڈ کا استعمال کیسا  ہے؟ کیا ان حشرات الارض کو مارنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وہ  کیڑے مکوڑے  جو تکلیف کا باعث  ہوں ان کا  مارنا جائز ہے،اور اس کے مارنے میں دوائیاں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق باتھ روم یا کموڈ   میں کیڑے مکوڑوں کو مارنا جو تکلیف کے باعث ہوں، جائز ہے اور   اسے استعمال کرنا   بھی ٹھیک ہے۔

 

قتل النملة تكلموا فيها والمختار أنه إذا ابتدأت بالأذى لا بأس بقتلها وإن لم تبتدئ يكره قتلها واتفقوا على أنه يكره إلقاؤها في الماء وقتل القملة يجوز بكل حال كذا في الخلاصة، وإحراق القمل والعقرب بالنار مكروه وطرح القمل حيا مباح لكن يكره من طريق الأدب كذا في الظهيرية، قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم؟ قال لا يثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء فالأولى أن لا يتعرض بقتل شيء منه كذا في جواهر الفتاوى.ولا تحرق بيوت النمل لنملة واحدة كذا في الفتاوى العتابية.(الفتاوى الهنديه،كتاب الكراهيه،ص:361،ج:5) 


فتویٰ نمبر : 5955/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں