بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/07/2026

دارالافتاء

 

فروخت شدہ باغ میں عشر کا حکم


سوال

میرے پاس  آڑو کا باغ تھا اس کو میں  نےاپنے دوست پر بیچ دیا  لیکن بیچتے وقت   اس میں آڑو نہیں تھے بلکہ صرف پھول نکلے تھے اب اس میں آڑو نکل   چکے ہیں اب پوچھنا  یہ ہے کہ عشر کس پر ہے مجھ پر یا میرے دوست پر؟

جواب

  واضح رہے کہ عاقدین کے مابین خرید و فروخت کا معاملہ طے پاتے وقت اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ مبیع(فروخت کی جانے والی چیز)  موجود اور معلوم و متعین ہو چنانچہ معدوم چیز کی بیع جائز نہیں۔

صورت مسئولہ  کے مطابق چونکہ بیع کے وقت آڑو موجود نہیں تھےاس لیے یہ بیع باطل  کے حکم میں ہے چونکہ اس میں مشتری کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لیے پھل بھی بائع کی ملکیت میں ہوں گےاور عشر  بھی بائع پرلازم ہوگا ۔

 

وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد ‌بيع ‌المعدوم... وكذا بيع الثمر، والزرع قبل ظهوره؛ لأنهما معدوم .(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه،ج:5،ص:138)

وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد ‌بيع ‌المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره.(ردالمحتار علی الدر المختار ،كتاب البيوع،ج:4،ص:505)

الباطل لا يفيد ملك التصرف۔(فتح القدیر،باب البیع الفاسد،ج:6،ص:404)

(وحكمه) أي حكم البيع الباطل (أن المبيع به لا يملك) أي لا يكون ملكا للمشتري لأن الباطل لا يترتب عليه الحكم.(دررالحكام، حكم البيع الباطل،ج:2،ص:169)


فتویٰ نمبر : 10174/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں