بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کسی کو قتل کرنے کی قسم کھانا


سوال

ہماری برادری میں ہماری  کسی  کے ساتھ دشمنی چل رہی تھی  کافی عرصہ تک دشمنی جاری تھی دونوں اطراف سے کافی لوگ مارے گئے  ان میں ہمارا بھائی بھی قتل ہو اور جس شخص نے مارا تھا وہ بھی مجھے معلوم تھا   ہم نے بھی ان کے کافی لوگ مار دیے انہوں نےجب میرے بھائی کو قتل کیا  تو میں نے قسم اٹھائی تھی" اللہ کی قسم میں بھی اس شخص کو قتل كروں گا جس نے میرے بھائی کو قتل کیا" اب ہماری ان کے ساتھ صلح ہوچکی ہےاب قسم سے خلاصی کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ معصیت  (گناہ  کے کام )پر قسم کھانا جائز نہیں بلکہ اس کو توڑ کر کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا  قسم کھانا کہ" اللہ کی قسم میں بھی اس شخص کو قتل كروں گا جس نے میرے بھائی کو قتل کیا"چونکہ کسی کو قتل کرنا گناہ  ہے لہذا اس قسم کا پورا کرنا اس پر لازم نہیں ،البتہ حانث اس صورت میں ہوگاکہ جس کو قتل کرنے کی قسم کھائی ہے وہ اس کی زندگی میں فوت ہوجائے چنانچہ حانث ہونے کے بعد  کفارہ ادا کرے اور اگر قسم کھانے والا اس سے پہلے فوت ہوجائے تو اپنی وفات سے ایک لمحہ قبل حانث ہوگا چنانچہ اس کو وصیت کرنی چاہیئے کہ اگرمیں اس پہلے فوت ہواتو میری طرف سے کفارہ قسم ادا کرلینا۔۔

 

(ومن حلف على معصية كعدم الكلام مع أبويه ‌أو ‌قتل ‌فلان) وإنما قال (اليوم) لأن وجوب الحنث لا يتأتى إلا في اليمين المؤقتة. أما المطلقة فحنثه في آخر حياته، فيوصى بالكفارة بموت الحالف ويكفر عن يمينه بهلاك المحلوف عليه غاية (وجب الحنث والتكفير) لأنه أهون الأمرين.( رد المحتارعلی الدرالمختار،كتاب الأيمان،ج:3،ص:728)


فتویٰ نمبر : 10173/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں