بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حجام کا داڑھی کٹوانے اور انگریزی بال بنانے پر اجرت لینا


سوال

حجام جو لوگوں کی داڑھی منڈواتا ہے یا  انگریزی بال بناتا ہے، اس کی آمدنی کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا داڑھی منڈوانے اور انگریزی بال بنانے کے حکم میں کوئی فرق ہے؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی منڈوانا یا شرعی حد سے کم رکھنا گناہ ہے، اس لیے داڑھی  منڈوانا اور کتروانا تعاون علی المعصیت کے زمرے میں شمار ہو کر اس پر اجرت لینا جائز نہیں ۔جہاں تک سر کے بال کٹوانے  کا تعلق ہے تو سر کا منڈوانا یا سنت طریقے سےکٹوانا مستحسن عمل ہے، اس لیے اس پر اجرت لینا جائز ہے۔ البتہ بالوں کو ایسے طریقے سے بنانا، جس میں غیر مسلوں کی مشابہت لازم آتی ہو ، یا ایسے  ڈیزائن بنانا ،جس میں بعض مخصوص لوگوں کی ثقافت کی عکاسی ہوتی ہو، یہ   شرعاً ممنوع ہے اوراس پر اجرت لینا بھی جائز نہیں،البتہ اگر سادہ طریقے سے بال   کٹوا دے تو اس پر اجرت لینا جائز ہے۔ 

     

عن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع.( الصحيح للبخاري، كتاب اللباس، باب القزع،ج:7،ص:163)

وسمي(القزع) شعر الرأس إذا حلق بعضه وترك بعضه.(فتح الباري، كتاب اللباس، باب القزع ج:10،ص:364)

يحرم على الرجل قطع لحيته.( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع ج:9۔ص:383)

(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي)؛لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر... وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه.(تبيين الحقائق، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة ،ج:6،ص:119)

أما استيجار الحجام لغير الحجامة كالفصد وحلق الرأس وتقصيره والختان وقطع شيئ من الجسد  للحاجة إليه فجائز …ولأن هذه الأمور تدعو الحاجة إليها ولا تحريم فيها فجازت الإجارة فيها وأخذ الأجرة عليها كسائر المنافع المباحة. (إعلاء السنن، كتاب الإجارة، باب كسب الحجام،ج:16،ص:160)


فتویٰ نمبر : 5966/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں