بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

تیمم کا جسم کے صرف دو حصوں پر ہی منحصر ہونا


سوال

 تیمم وضو کا خلیفہ ہے اور وضو جسم کے چار حصوں پر منحصر ہے جبکہ تیمم صرف دو حصوں پر۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ میں سہولت کے مظاہر میں سے ایک تیمم بھی ہے جسے اللہ نے مکلف پر آسانی کرتے ہوئے مشروع کیا۔ تیمم کا جسم کے صرف دو حصوں پر  منحصر ہونا عین حکمت و عقل کے مطابق ہے، کیونکہ سر پر مٹی لگانا عرف میں معیوب ہے، اور ایسا فقط مصائب میں کیا جاتا ہے، اور دونوں پاؤں تو ویسے ہی عام طور پر مٹی سے غبار آلود  ہوتے ہیں، اس لیے تیمم میں سر اور پیر کا مسح شریعت نے نہیں رکھا ۔ جبکہ چہرے پر مٹی لگانے میں اللہ کے لئے خضوع، تعظیم و عاجزی ہے، جو کہ اللہ کو محبوب ترین اور بندے کے لئے انتہائی مفید عبادات میں سے ہے، اسی لئے سجدے کی حالت میں چہرہ خاک آلود کرنا مستحب ہے۔

 

﴿مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (سورةالمائدة، آية: 6.)

وأما كونه في عضوين ففي غاية الموافقة للقياس والحكمة، فإن وضع التراب على الرؤوس مكروه في العادات، وإنما يفعل عند المصائب والنوائب، والرِّجْلان محل ملابسة التراب في أغلب الأحوال، وفي تتريب الوجه من الخضوع والتعظيم لله، والذل له، والإنكسار لله ما هو من أحب العبادات إليه وأنفعها للعبد، ولذلك يستحب للساجد أن يُتَرِّب وجهه لله، وأن لا يقصد وقاية وجهه من التراب كما قال بعض الصحابة لمن رآه قد سجد وجعل بينه وبين التراب وقاية فقال: «تَرِّب وجهك» وهذا المعنى لا يوجد في تتريب الرجلين . . . فظهر أن الذي جاءت به الشريعة هو أعدل الأمور وأكملها، وهو الميزان الصحيح. (أعلام الموقعين عن رب العالمين، ج: 2، ص: 259-260.)


فتویٰ نمبر : 10193/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں