بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدت کے دوران فون پر بات کرنا


سوال

کچھ دنوں پہلے ہمارے نانا کا انتقال ہوا ہے، ہمارے کچھ محرم اور غیر محرم رشتہ دار دوسرے ممالک میں رہتے ہیں، وہ تعزیت کے لیے فون کررہے ہیں اور نانی سے بات کرنے کے لیے کہتے ہیں تو کیا ہماری نانی ان سے فون پر بات کرسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عورت دوران عدت کسی خاتون یا محرم مرد سے فون وغیرہ پر بات کرسکتی ہے، البتہ غیر محرم مردوں سے صرف ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت بات کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ  میں سائل کی نانی کا عدت کے دوران محرم رشتہ داروں سے فون پر بات کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے، نیز غیر محرم رشتہ داروں سے بات کرنے میں اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو تعزیت کے سلسلے میں بقدر ضرورت بات کرنے کی گنجائش ہے۔

 

"فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولانجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة"۔(رد المحتار على الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ ،ج:1،ص:406)

"على المبتوتة والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها كذا في الكافي. والحداد الاجتناب عن الطيب والدهن والكحل والحناء والخضاب ولبس المطيب والمعصفر والثوب الأحمر وما صبغ بزعفران إلا إن كان غسيلا لا ينفض ولبس القصب والخز والحرير ولبس الحلي والتزين والامتشاط كذا في التا تار خانية"۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع عشرفى الحداد، ج:1، ص :585)


فتویٰ نمبر : 7008/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں