بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ہبہ کی گئی زمین نہ بیچنے کی شرط لگانا


سوال

میری والدہ نے مجھے زندگی میں زمین اس شرط پر ہبہ کی کہ اس زمین میں مکان تعمیر کرنے کی تو اجازت ہے، لیکن بیچنے کی اجازت نہیں۔ اب والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، کیا میں اس زمین کو بیچ کر گاؤں میں کہیں اور زمین خریدسکتی ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی  کو کوئی چیز ہبہ کردے اور موہوب لہ اس پر قبضہ کرلےتو  موہوبہ چیز موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہےاور موہوب لہ اس کا مالک بن جاتا ہے چنانچہ پھر وہ اس میں تمام  جائز تصرفات کا حق رکھتا ہے۔نیز ہبہ ان معاملات میں سے ہے، جس میں شرط لگانا لغو اور باطل ہوتا ہے اور ہبہ صحیح اور مکمل ہوجاتا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر والدہ نے اپنی بیٹی کو  زمین ہبہ کی ہو اور اس پر مکمل قبضہ بھی دے دیا ہو، تو بیٹی اس زمین کی مالکہ  ہوگی  اور والدہ کا یہ شرط لگانا کہ "اس زمین کو بیچنے کی اجازت نہیں "یہ شرط فاسد ہے، جو شرعاً معتبر نہیں ، لہذا بیٹی اس زمین کو بیچ کر کہیں اور زمین خرید سکتی ہے۔

 

"لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية"۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ و ما لا یجوز، ج:4،ص:378) 

"قال أصحابنا جمیعا:إذا وھب ھبة وشرط فیھاشرطا فاسدا فالھبةجائزة والشرط باطل وإن وهب لرجل أمة على أن يردها عليه، أو على أن يعتقها، أو على أن يستولدها، أو وهب له دارا، أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منها، أو يعوضه شيئا منها، فالهبة جائزة، والشرط باطل"۔ (الفتاوی الھندیة،کتاب الھبة،الباب الثامن فی حکم الشرط فی الھبة،ج:4،ص:443)


فتویٰ نمبر : 5973/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں