بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

بارات کے دن رخصتی سے پہلے لڑکی والوں کا اپنے مہمانوں کو کھانا کھلانا


سوال

شادی کے دن لڑکی والے رخصتی سے پہلے لڑکے والوں کے5 1، 20 افراد کو اپنے گھر بلا کر اپنے مہمانوں کے اکرام میں کھانا کھلاتے ہیں ،بسا اوقات  لڑکی والوں کی حیثیت 15 یا 20 سے زیادہ مہمانوں کو کھانا دینے کی نہیں ہو تی ، یاوہ اس تعداد  سے زیادہ پر راضی نہیں ہو تے لیکن لڑکے والے قصدا زیادہ افراد بھجوا  دیتے ہیں اور لڑکی والے بادل نخواستہ ان کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں ،پوچھنا یہ ہے کہ لڑکی والوں کی طرف سے  کھانا دینا کیا ولیمہ کی طرح مسنون  ہے؟اور  بغیر رضامندی کےان سے کھانا  کھانا  شریعت کے لحاظ سے کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ولیمہ اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو رخصتی کے بعد لڑکے کی طرف سےدیا  جائے،رخصتی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے باراتیوں یا مہمانوں کو کھانا کھلانا ولیمہ کی طرح مسنون نہیں ہے، لیکن حرام اور ناجائز بھی نہیں ، بلکہ جائز اور مباح امور میں سے ہے، اگر لڑکی والے نمود ونمائش سے بچتے ہوئے،کسی قسم کی زبردستی اور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی و رضا مندی سے مہمانوں کوکھانا کھلائیں تو مہمانوں کے لیے اس طرح کی دعوت کا  کھانا جائز ہے، اور اگر لڑکی والےکسی بھی وجہ سے  خوشی سے نہ کھلائیں تو زبردستی کرکے لڑکی والوں سے کھانا کھانا جائز نہیں ہے۔

 

عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعي أحدكم إلى طعام، فليجب، فإن شاء طعم، وإن شاء ترك....وفيه أيضا:عن نافع، قال: سمعت عبد الله بن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"أجيبوا هذه الدعوة إذا دعيتم لها"، قال: وكان عبد الله بن عمر يأتي الدعوة في العرس، وغير العرس، ويأتيها وهو صائم".  (الصحيح للمسلم، كتاب الحج، باب زواج زينب بنت جحش، رقم الحديث،1430)

عن أبی حرة الرقاشی عن عمه قال: قال رسول اللهﷺ ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه... الخ.(مشكوٰة المصابيح، كتاب البيوع، رقم الحديث:2946)

ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة، وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعوالجيران، والأقرباء، والأصدقاء، ويذبح لهم، ويصنع لهم طعاما.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:343)


فتویٰ نمبر : 5972/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں