بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تھریشر والوں کو گندم بطور اجرت دینا


سوال

تھریشر والے گندم نکالتے ہیں تو  ہم ان کو ان کی مزدوری اسی گندم سے من کے حساب سے دیتے ہیں ۔میں نے سنا ہے کہ اس طرح کرنا درست نہیں ۔کیا واقعی یہ شریعت کی نظر میں درست نہیں؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

عقدِ اجارہ کی صحت کے لیے اجرت کا معلوم ہو نا ضروری ہے ،اگر اجرت مجہول ہو ،تواجارہ فاسد ہو جاتا ہے،اور اجارہ فاسدہ میں اجیر کو اجرت مثل دی جائیگی ۔ 

صورت مسئولہ کے مطابق تھریشر والوں کو گندم صاف کرنے کے بعد جو گندم اجرت میں دیا جا تاہےاگر وہ معلوم ومتعین ہو مثلاً 10من وغیرہ  ، یا پھر ایسا تناسب مقررہوجس سے اجرت کی مقداربعد میں متعین ہو جائےاورنزاع پیدا نہ ہوجیسے کل گندم کا دسواں حصہ،تو ایسی صورت میں مذکورہ معاملہ جائز ہو گا ،اور اگر اجرت معلوم  نہ ہواور نہ ہی وہ فیصدوتناسب  کے اعتبار سے مقررکیا گیا ہو تو پھر اجرت کی جہالت کی وجہ سے عقد اجارہ جائز نہ ہو گا ،چنانچہ تھریشر والےکو اجرت مثل دی جائی گی۔

 

عن أبي سعيد، قال: إذا استاجرت أجيرا فأعلمه أجره".(السنن النسائي، كتاب المزارعة، باب:الثالث من الشروط فيه المزارعة،والوثائق، رقم الحديث:3888)

ولا تصح حتى تكون الأجرة معلومة، والأجرة معلومة لما روينا،ولأن الجهالة في المعقود عليه، وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن،والمثمن في البيع.(الهداية، كتاب الأجرة، ج:3، ص:294)

(الفاسد ) من العقود (ما كان مشروعًا بأصله دون وصفه والباطل ما ليس مشروعًا أصلًا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال).(الدر المختار،كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:45)


فتویٰ نمبر : 3627/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں