بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مرحومہ والدہ کے روزوں کا فدیہ دینا


سوال

ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے  اور بیماری (نفاس )کی وجہ سے ان سے کچھ روزے چھوٹ گئے تھے ،اور ان کے ذمے روزوں کی قضا باقی تھی تو کیا ہم ان کی طرف سے فدیہ ادا کرسکتے ہیں  جبکہ انہوں  نے فدیہ کی وصیت نہیں کی تھی ؟

جواب

رمضان  کے روزے بوجہ مرض یا سفر  وغیرہ کے افطار کرنا مرخص ہے،لیکن سفر سے واپسی  یا مرض سے صحت یابی پر اس کی قضا واجب ہو گی پھر اگر مریض یا مسافر کو قضا کا موقع نہ مل سکا اور وہ فوت ہو گیا تو اس پر کچھ مواخذہ نہیں ، لیکن اگر موقع ملنے کے  باوجود روزہ نہ رکھے تو فوت ہو نے سے پہلے قضا شدہ روزوں کے بدلے فدیہ کی وصیت کرنا ضروری ہے ،اگر وصیت نہ کرے تو ورثا پر فدیہ دینا لازم  نہیں ،تاہم اگر ورثا اپنےملک سے بخوشی مورث کی جانب سے فدیہ دیں ،تو اس کا ذمہ فارغ ہو نے کی امید ہے ۔

صورت مسئولہ میں مرحومہ پر نفاس سے پاک ہونے کے بعد قضا شدہ روزوں کی قضا لازم  تھی اگر اس نے قضا کا موقع ملنے کے با وجود روزوں کی قضا نہ رکھی ،اور نہ ہی موت سے پہلے فدیہ دینے کی وصیت کی ، تو شرعاً ورثاء پر روزوں کا فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ، البتہ اگر ورثاء از خود اپنی طرف سے   مرحومہ کے روزوں کا فدیہ ادا کریں، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ روزوں کا فدیہ قبول فرمالیں گے،لیکن  اگر نفاس  میں ہی اس کا انتقال ہوا ،تو چونکہ اسے قضا  کا موقع  نہیں ملا اس لیے اس پر فوت شدہ  روزوں کے بدلے فدیہ کی وصیت کرنا  ضروری نہیں تھا۔

 

ولو فات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه ‌لكنه ‌إن ‌أوصى ‌بأن ‌يطعم ‌عنه صحت وصيته، وإن لم تجب عليه...فإن برئ المريض،أو قدم المسافر،وأدرك من الوقت بقدر ما فاته، فيلزمه قضاء جميع ما أدرك، فإن لم يصم حتى أدركه الموت، فعليه أن يو صي بالفدية.(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس:في الأعذار التي تبيح الإفطار،ج:1، ص:270)

(فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر (ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:3، ص:406)


فتویٰ نمبر : 10176/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں