بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/07/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے چندے کی رقم سے لیٹرین بنانا


سوال

آج کل عام طور پر مسجد کے ساتھ  لیٹرین بنایا جاتا ہے ۔ تو کیا اس لیٹرین کو مسجد کے پیسوں سے بنانا شرعاً جائز ہےیا نہیں ؟ یعنی جو چندہ مسجد کے نام سے لوگوں سے اکٹھا کیا گیا ہو ان پیسوں سے وہ لیٹرین جو مسجد کے ساتھ بنانا معمول بن گیا ہو تو اس کے  بنانے کا حکم از روئے شریعت  کیا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے  جو چندہ کیا گیا ہو وہ مسجد کی تعمیر کےساتھ ساتھ  مصالح مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  مسجد کے ساتھ لیٹرین  بنانا چونکہ عرف میں  مصالح مسجد میں داخل  ہو چکاہے، اس لیے مسجد کے  چندے سے  نمازیوں کی سہولت کے لیے لیٹرین بنانا جائز ہے۔

 

‌عن واثلة يعني ابن الأسقع قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:جنبوا المساجد صبيانكم، ومجانينكم وشراءكم وبيعكم وخصوماتكم، ورفع أصواتكم، وإقامة حدودكم، وسل أسيافكم، وجمروها في الجمع، ‌واتخذوا ‌على ‌أبوابها ‌المطاهر.(المعجم الكبير للطبراني، باب الواو، رقم الحديث:136، ج:22، ص:57)

(‌ويبدأ ‌من ‌غلته ‌بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح.(الدرالمختار شرح تنويرالأبصار، كتاب الوقف،ج:372)


فتویٰ نمبر : 6003/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں