بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

فارم میں مردہ پائی جانے والی مچھلیوں کا کھانا اور بیچنا


سوال

مچھلیوں کے فارم میں بعض مرتبہ مچھلی خود مر کر پانی کے اوپر آتی ہے تو کیا ان مچھلیوں کو کھانا یا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مچھلی پانی کے اندر  کسی خارجی سبب  کے  بغير اپنی طبعی موت  مر کرپانی کے اوپرتیرنے لگے  تواس کا کھانا شرعاً جائز نہیں، لیکن اگر وہ کسی خارجی سبب مثلاً دوائی ڈالنے یا کرنٹ لگانے کی وجہ سے مر جائے  تو اس کا کھانا جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق مچھلیوں کے فارموں میں جو مچھلی کسی خارجی سبب کے بغیر اپنی طبعی موت  مر جائے تو اس مچھلی کا کھانا اور بیچنا شرعاً جائز نہیں۔

 

عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما ألقى البحر ‌أو ‌جزر ‌عنه، ‌فكلوه، ‌وما ‌مات ‌فيه ‌فطفا، فلا تأكلوه.(سنن ابن ماجه، باب الطافي من صيد البحر،رقم الحديث:3247)

‌الأصل ‌في ‌إباحة ‌السمك ‌أن ما مات بآفة يؤكل، وما مات بغير آفة لا يؤكل.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الذبائح،ج:9، ص:445)

‌أما ‌الذي ‌يعيش ‌في ‌البحر ‌فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه.(بدائع الصنائع، كتاب الذبائح والصيود،المأكول وغير المأكول من الحيوانات،ج:6، ص:173)

(‌ولا) ‌يحل (‌حيوان ‌مائي ‌إلا ‌السمك) الذي مات بآفة ولو متولدا في ماء نجس ولو طافية مجروحة.وهبانية (غير الطافي) على وجه الماء الذي مات حتف أنفه وهو ما بطنه من فوق، فلو ظهره من فوق فليس بطاف فيؤكل كما يؤكل ما في بطن الطافي، وما مات بحر الماء أو برده ويربطه فيه أو إلقاء شئ فموته بآفة.(رد المحتار علی الدرالمختار،كتاب الذبائح، ج:9، ص : 445 ،444)


فتویٰ نمبر : 3612/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں