بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لڑکی کا اپنے شوہر کو نکاح کے لیے وکیل بنانا


سوال

ایک لڑکی جو کہ پڑھی لکھی ہے، اس کے والد فوت ہو چکےہیں، اس نے اپنے چچا کی موجودگی میں اپنےنکاح کی مجھے اجازت دی، اور نکاح نامے کے  فارم کو پورا پڑھ کراس پر سائن کر کےمجھے دے دیا، میں وہ فارم لے کر علاقے کے مولوی کے پاس چلاگیا، مولوی صاحب نے دو گواہوں کی موجودگی میں مجھ سے ایجاب اور قبول کروایا، اور میں نے تین مرتبہ قبول کیا، اور کچھ ٹائم کے بعد وہ لڑکی رخصت ہو کر میرے گھر پر بھی آگئی، تو کیا اس طرح ہمارا نکاح ہو گیا یا نہیں ؟

جواب

 اگرکوئی عورت کسی شخص کو اپنے ساتھ نکاح کرانے کے لیے وکیل مقرر کرے، تو اس صورت میں وکیل کا اس  مؤکلہ عورت کااپنے ساتھ نکاح کرانا  جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی لڑکی نے سائل کواپنے ساتھ نکاح کرانے کی  اجازت دی ہو تو سائل کا  وکیل بن کر دو گوہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنےسے نکاح منعقد ہو گیاہے۔

 

وإذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجه من نفسه فعقد بحضرة الشاهدين جاز۔ ( الھدایۃ، فصل في الوكالة بالنكاح و غيرها، ج:3، ص:39)

(كما للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر (قوله فإن له ذلك) أي تزويجها لنفسه بشرط أن يعرفها الشهود، أو يذكر اسمها واسم أبيها وجدها أو تكون حاضرة منتقبة، فتكفي الإشارة إليها. و عند الخصاف لا يشترط كل ذلك، بل يكفي قوله زوجت نفسي من موكلتي كما بسطه في الفتح والبحر۔ (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج43، ص:227)


فتویٰ نمبر : 7003/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں