بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نذر کو شرط کے ساتھ معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک ہفتے تک دس  ہزار روپے اللہ کے نام پر دوں گا ،اب کام ہوا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ نذر منعقد ہوئی ہے یا نہیں ؟اگر منعقد ہو ئی ہےتو کیاان پیسوں کواپنے محلے کی ٹرسٹ جس میں نشہ کرنے والے لوگوں کا علاج ہوتا ہو،اس میں خرچ کرسکتاہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص  نذر کو کسی  شرط کے ساتھ معلق کردے تو شرط کے موجود ہونے کے ساتھ نذر کی ادئیگی واجب ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص یہ نذر مانے کہ” اگر میرا یہ کام ہوگیا تو میں ایک ہفتے تک دس ہزار روپے اللہ کے نام پر دوں گا“ ،اوروہ کام ہو جائے، تو اس پر ایک ہفتے تک دس ہزار روپے اللہ کے نام پر دینا واجب ہے، البتہ نذر کی رقم  چونکہ صدقات واجبہ میں سے ہے جوکسی مستحق زکوۃ کی تملیک میں دینا ضروری ہے، اس لیے تملیک کے بغیر نذر کی رقم ٹرسٹ میں خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ مستحق زکوۃ کی ملکیت میں دینے سے نذر کی ادائیگی درست ہوگی۔


(ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى"( كصوم وصلاة وصدقة)۔ (الدالمختار علی صدر ردالمحتار، كتاب الأيمان، ج5، ص516،517(

(أي مصرف الزكاة والعشر ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:283)


فتویٰ نمبر : 10164/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں