بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

لقطے پر کئے گئے خرچے کا مطالبہ کرنا


سوال

میرے والد صاحب کو ایک بکری ملی تھی جس کو میرے والد نےاپنے گھرمیں رکھا اور اس کے لیے بازار سے چارہ وغیرہ لے آتا تھا،  تین دن کے بعد اس کا مالک مل گیا ہے،اب میرا والداس سےخرچہ کا مطالبہ کرتا ہے کہ تین دن تک بکری پالنے پر میرے پانچ سو روپے لگے ہیں، تو کیا میرے والد بکری پر کئے گئے خرچہ کا مطالبہ کر سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ لقطہ میں ملی ہوئی چیز پر جو رقم خرچ کی جاتی ہے وہ شرعا تبرع کے حکم میں  ہے یعنی مالک سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا، البتہ اگر قاضی حکم   دے کہ "اس پر خرچہ کرتے رہواور  جب مالک مل جائے گا،تو اس سے وصول کرلینا"تو ایسی صورت میں خرچے کی رقم وصول کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اپ کے والدکو اس پر اعتماد آچکا ہوتو وہ اس کو بکری دےدے پھر اگر اس نے اس بکری  پر قاضی کی اجازت کے بغیر خرچہ کیا ہے  تو وہ مالک سے اس کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔تاہم اس نے بکری کی حفاظت کی ہے  اس لیے اچھے اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ مالک اس کو خرچے کی رقم حوالہ کردے۔

 

(وهو في الإنفاق على اللقيط واللقطة متبرع) لقصور ولايته (‌إلا ‌إذا ‌قال ‌له ‌قاض أنفق لترجع) فلو لم يذكر الرجوع لم يكن دينا في الأصح. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب اللقطة، ج:4، ص:281)

‌وما ‌أنفق ‌الملتقط على اللقطة بغير إذن الحاكم فهو تبرع، كذا في الكافي. وبإذن القاضي يكون دينا، وصورة إذن القاضي أن يقول له: أنفق على أن ترجع. (الفتاوى الهندية، كتاب اللقطة، ج:2، ص؛290)


فتویٰ نمبر : 5965/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں