بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کو عاق کرنے کے بعد میراث کا حکم


سوال

بیٹے کے اپنے باپ سے تعلقات اچھے نہیں تھے،تو  اس وجہ سے باپ نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیا  اور اُس کو اپنی جائیداد سے عاق کردیا، تو کیا اس بیٹے کو باپ کی میراث میں حصہ ملے  گا یا نہیں؟

جواب

"عاق"کا معنی ہے "والدین کی نافرمانی کرنے والا "۔  لہذا والدین کا نافرمان  بہر حال "عاق "ہوتا ہے، البتہ میراث ایک ایسا حق ہے،  جس کو کوئی شخص ختم نہیں کرسکتا، لہذااگر باپ کسی بیٹے کوعاق کرے تو اس سے وہ میراث سے محروم نہ ہوگا، چنانچہ عاق شدہ بیٹا بھی میراث کا حقدار ہوتا ہے، تاہم اگر باپ نے زندگی میں اپنی سب جائیداد اورمال و دولت دوسرے ورثا میں تقسیم کرکے ان کو قبضہ دے دیا ہو اورعاق کردہ بیٹے کو کچھ نہ دیا ہو تو پھر باپ کے مرنے کے بعد عاق شدہ بیٹے کو مطالبہ کا حق نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر باپ  بیٹے  کو جائیداد سے عاق کردے، تو اس سے وہ میراث سے محروم نہ ہوگا۔

 

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :"من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة".(سنن ابن ماجه، باب الوصايا، الفصل الاول،ج:2،ص:197،رقم الحديث:3078)

الإرث جبري لايسقط بالإسقاط.(ردالمحتار على درالمختار،كتاب الدعوي، باب التحالف،ج:11،ص:678)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.(البحرالرائق،كتاب الحدود، فصل في التعزير،ج:5،ص:68)


فتویٰ نمبر : 5954/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں