بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زبان سےایک نماز کی بجائے دوسری نماز کی نیت کرنا


سوال

ایک آدمی مغرب  کی نماز کے لیے گھر سے نکلا مسجد میں آکر  بے خیالی سے مغرب  کی نیت کرنے  کی بجائے عشاء  کی نماز کی  نیت  کی یہ نیت صرف زبان سے کی اور دل میں گھر سے نکل کر صف میں کھڑے ہونے تک مغرب کی نیت کی تھی ، اب اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نیت زبان سے بولنا ضروری نہیں،تاہم دل کے ارادے میں مزید استحکام کی خاطر  زبان سے بولنا ایک بہتر عمل ہے۔نیز   فرائض اور واجبات کی نیت میں تعیین ضروری ہے  کہ یہ فلاں وقت کی فرض یا واجب نماز ہے،البتہ سنن ونوافل میں مطلق نماز کی نیت بھی کافی ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کوئی شخص  گھر سے مغرب کی نماز کے لیے نکلے اور مسجد میں آکر زبان سے مغرب  کی بجائے نمازعشاء کی نیت کرے لیکن دِل میں مغرب ہی کی نیت ہو  تو چونکہ دل  کی نیت معتبر ہے لہذا یہ نماز درست ہوگی دوبارہ اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

 

(‌والمعتبر ‌فيها ‌عمل ‌القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان مجتبى.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة،ج:1،ص:415)

‌الواجبات ‌والفرائض ‌لا ‌تتأدى ‌بمطلق ‌النية إجماعا. كذا في الغياثية فلا بد من التعيين فيقول نويت ظهر اليوم أو عصر اليوم أو فرض الوقت أو ظهر الوقت.كذا في شرح مقدمة أبي الليث.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الرابع في النية،ج:1،ص:65)


فتویٰ نمبر : 10204/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں