بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کا آنے والے شخص کے لیے رکوع لمبا کرنا


سوال

اگرامام رکوع کی حالت میں ہو اور اس وقت کوئی آدمی آئے، امام اس آدمی کی وجہ سے رکوع کو لمبا کرے تاکہ نماز میں شامل ہوجائے تو کیا امام کے لیے ایسا کرنا  صحیح ہے یا نہیں؟ چاہے امام مقتدی کو پہچاننے والا ہو یا نہیں ۔

جواب

اگرامام آنے والے نمازی کو پہچان لے، اور اس کی رعایت میں قرأت یا رکوع وغیرہ کو  لمبا کرے تو یہ مکروہ تحریمی ہے، اوراگر پہچانے بغیر طویل کرے تونماز مکروہ نہیں ہوتی، تاہم اتنا زیادہ لمبا نہ کرے کہ دیگر نمازی اُکتا جائیں اورلوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بنے۔

وكره ‌تحريما ‌إطالة ركوع أو قراءة لادراك الجائي: أي إن عرفه وإلا فلا بأس به۔ (قوله وإلا فلا بأس) أي وإن لم يعرفه فلا بأس به لأنه إعانة على الطاعة، ‌لكن ‌يطول ‌مقدار ما لا يثقل على القوم بأن يزيد تسبيحة أو تسبيحتين على المعتاد۔ (الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلوة، ‌‌باب صفة الصلاة، ص:68)

 


فتویٰ نمبر : 10156/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں