بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سمت قبلہ سے ہٹ کر پڑھی گئی نمازوں کا حکم


سوال

ہم نے ایک سوسائٹی میں گھر لیا  جس میں دو تین ماہ سے ایک سمت  میں ہم نماز پڑھتے رہے ۔ ایک دن مشین کے ذریعے چیک کیا تو سمت میں فرق تھا۔ پہلے جس سمت پرپڑھ رہے تھے وہ قبلہ سے ہٹ کر تھا ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان نمازوں کا کیا حکم ہوگا۔ قضا لازم ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  قبلہ کی طرف رخ کرنا نماز کی شرائط میں سے ہے،جن لوگوں کو بیت اللہ نظر آتا ہے  تو  ان  کے لیے عین  کعبہ کی طرف منہ کر  کے نماز ادا کرنا فرض ہے  اور عین کعبہ سے انحراف کی صورت میں نماز ادا نہ ہوگی، البتہ جن کو بیت اللہ نظر نہ آتا ہو تو وہ جہت قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں گے،اور جہت قبلہ عین قبلہ سے دائیں بائیں 45 ڈگری  تک ہے،لہذا اگر عین قبلہ سے اتنا انحراف  ہو کہ دائیں یا  بائیں  45 ڈگری کے اندر اندر ہو  تو ایسی صورت میں نماز ادا ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ  میں  دو تین ماہ جس سمت نماز ادا  کی ہے، اگر وہ عین قبلہ سے 45 ڈگری سے زائد منحرف ہوتو اُن نمازوں کا اعادہ کیا جائے گا،لیکن اگر عین  قبلہ سے انحراف 45 ڈگری سے کم تھا  تو اس صورت میں پچھلی نمازیں ادا ہو گئی ہیں، لہذااعادہ کی ضرورت نہیں۔

 

"شروط الصلاة هي ثلاثة أنواع: شرط انعقاد: كنية، وتحريمة، ووقت، وخطبة: وشروط دوام، كطهارة وستر عورة، واستقبال قبلة".(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:1ص:401)

لو انحرف عن العين انحرافا لا يزول به ‌المقابلة ‌بالكلية جاز يؤيده ما قال في الظهيرية إذا تيامن أو تياسر يجوز۔(دررالحكام شرح غرر الأحكام،كتاب الصلاة،ج:1ص:60)

لأن ‌قبلته ‌حالة البعد جهة الكعبة وهي المحاريب لا عين الكعبة لما بينا فيما تقدم۔(بدائع الصنائع،كتاب الصلاۃ،ج:1ص:129)


فتویٰ نمبر : 10144/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں