بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

سرکاری ملازم کا کسی اورکواپنی جگہ ڈیوٹی پر بھیجنا


سوال

کسی سرکاری ملازم کا اپنی جگہ دوسر ے کسی شخص کو ڈیوٹی کے لیے بھیجنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

کسی کام کے لیے متعین سرکاری ملازم اجیر خاص کی حیثیت رکھتا ہے اور اجیر خاص مقررہ مدت میں مفوضہ ذمہ داری کے لیے اپنے آپ  کو حوالہ کرنے پر اجرت  کا مستحق ٹھہرتا ہے ، لہذااس کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ اپنی جگہ کسی اور ڈیوٹی  کے لیے بھیجے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سرکاری ملازم کااپنی جگہ کسی اور سے ڈیوٹی کرانا جائز نہیں ۔

 

وإذا ‌شرط ‌عمله ‌بنفسه بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الإجارة، شروط الإجارة،ج:٦،ص:١٨)

الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة. (دررالحكام شرح مجلة الأحكام،كتاب الإجارة،الباب الأول في بيان الضوابط العمومية،المادة:٤٢٥)

الأجير الذي استوجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره.(شرح المجلة،كتاب الإجارة، الباب السادس فى بيان المأجور،الفصل الرابع فى اجارة الآدمي،المادة:٥٧١)


فتویٰ نمبر : 3619/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں