بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کا والدین کی اجازت کے بغیرچھپکے سے نکاح کرنا


سوال

 

فاطمہ زید کی منکوحہ تھی اور زید سے اس کے دو بچے بھی تھے، پھر زید کا انتقال ہوگیا اور فاطمہ کی عدت گزرجانے کے بعد فاطمہ کے رشتہ دار عمرو نے فاطمہ سے شادی کرنے کےلیے رشتہ بھیجا، فاطمہ کے  والد  نے  رشتہ دینے سے انکار کردیا، چناچہ عمرو اور فاطمہ نے  خاموشی  سے نکاح کرنے کا فیصلہ کرلیا،  عمرو کے والد سمیت دوگواہوں کی موجودگی میں نكاح  ہوا، فاطمہ کے والدین کو کوئی خبر نہ ہوئی اس طرح دوسال گزرگئے۔ عمرو نے فاطمہ کےلیے الگ فلیٹ لے رکھا تھا۔  وہ عمرو کے ساتھ کبھی کبھار ملتی تھی ان دو سالوں میں فاطمہ دو مرتبہ حاملہ ہوئی اور اس نے حمل کو اس وجہ سے ضائع کردیا کہ اگر والدین کو پتہ چلا تو وہ کیا کہیں گے، پھر آہستہ آہستہ فاطمہ کے والد کو اس پر شک ہوا تو فاطمہ سے کہا کہ اگر تم نے عمرو سے نکاح کیا  تو تمھارے اور ہمارے کوئی تعلقات نہیں، اس کے بعد فاطمہ پر دباؤ آیا اور اس نے عمرو  سے طلاق لینے کا فیصلہ کیا، مگر اب عمرو اس کو چھوڑنے کےلیے تیا ر نہیں اور فاطمہ ذہنی  طور پر دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوگئی ہے اب اس مسئلہ کا حل کس طرح نکال سکتا ہے برائے  مہربانی مطلع فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی عاقلہ بالغہ عورت  ولی کی اجازت کے بغیر دوگواہوں کی موجودگی میں  کفو میں نکاح کرے تو اس كانکاح نافذ ہوگا، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جس عورت نے  والدین کی اجازت کے بغیر  چھپکے سےدو گواہوں کی موجودگی  میں نکاح  کیا ہے تو اس کا نکاح نافذ ہوچکا ہے، لہذا    اگر شوہر اس کا کفو ہو تو نکاح ختم کرنے کوشش نہ کرے،  البتہ اگر  والدین  کی طرف سے تعلقات  ختم ہونے کا خدشہ ہو تو والدین کو  علما یا گاؤں کے مشران کے ذریعے سمجھا کر اس نکاح  پر راضی کرنے کی کوشش کرے۔

 

قال رحمه الله (‌نفذ ‌نكاح ‌حرة مكلفة بلا ولي)، وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف في ظاهر الرواية وكان أبو يوسف أولا يقول إنه لا ينعقد إلا بولي إذا كان لها ولي، ثم رجع وقال: إن كان الزوج كفئا لها جاز وإلا فلا ... وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء؛ لأن كثيرا من الأشياء لا يمكن دفعه بعد الوقوع واختار بعض المتأخرين الفتوى بهذه الرواية لفساد الزمان، وقوله: ‌نفذ ‌نكاح ‌حرة مكلفة يدخل تحته الثيب والبكر لإطلاق ما تلونا وما روينا وما بينا من المعقول والمنقول. (تبيين الحقائق، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء، ج: 2، ص: 493)

الولاية في النكاح نوعان: ولاية ندب واستحباب وهو الولاية على البالغة العاقلة بكرا كانت أو ثيبا، وولاية إجبار وهو الولاية على الصغيرة بكرا كانت أو ثيبا۔ ( فتح القدير، كتاب النكاح، ‌‌باب الأولياء والأكفاء، ج: 3، ص: 255)

وإن زوجها الولي غير كفء ودخل بها، ثم بانت من زوجها بالطلاق، ثم زوجت نفسها هذا الزوج بغير ولي كان للولي أن يفسخ. (فتاوى قاضي خان، كتاب النكاح، فصل في الكفاءة، ج: 1، ص: 310)


فتویٰ نمبر : 6998/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں