بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مہر کو تھوڑا تھوڑا ادا کرنا


سوال

ایک شخص نے دو سال پہلے شادی کی ہے لیکن مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے مہرمؤجل  کوابھی تک ادا نہیں کیا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ  کیا حق مہر تھوڑا تھوڑاحصہ کر کے ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مہرمؤجل کے لیے جو میعاد مقرر کی گئی ہو، اس میعاد کے آنے پر شوہر کے ذمے بیوی کومہر ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے، تاہم  اگر کسی مجبوری کی وجہ سے حق مہر  یکمشت ادا کرنا ممکن نہ ہو، تو بیوی کی رضامندی سے شوہر کے لیے تھوڑا تھوڑا کرکے قسطوں میں مہر ادا کرنا بھی جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرشوہرحق مہر یکمشت ادا کرنے سے قاصر ہو تو حسب استطاعت بیوی کی رضامندی سے تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کرنا بھی جائز ہے۔

 

أن المهر ملك المرأة وحقها لأنه بدل بضعها وبضعها حقها وملكها والدليل عليه قوله عز وجل ﴿وآتوا النساء صدقاتهن نحلة﴾ أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها۔(بدائع الصنائع، کتاب النکاح ، فصل في بيان ما يجب به المهر، ج:3، ص:519)

‌لا ‌خلاف ‌لأحد ‌أن ‌تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه قال بعضهم يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الفصل الحادي عشر۔۔۔، ج:1، ص:318)


فتویٰ نمبر : 6997/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں