بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

چھوٹے گاؤں میں نماز جمعہ ادا کرنا


سوال

میرا تعلق آزاد کشمیر سے ہےجس کا اکثر حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے، وہاں شہروں کی بنسبت دیہاتوں کا غلبہ ہے سینکڑوں گاؤں کے لیے ایک شہر مرجع ہوتا ہے، اور یہ معاملہ تقریباً پورے کشمیر میں ہے، اور میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی پہاڑی سلسلے ہیں ان کی یہی صورت حال ہے، ان گاؤں اور دیہاتوں میں چھوٹی بڑی ہر قسم کی مساجد اور چھوٹے چھوٹے مدرسے، سرکاری اسکول،پرائیویٹ اسکول، حسبِ ضرورت کریانہ کی دکانیں بھی موجود ہوتی ہیں ، وہ بھی اِکا دُکا کہیں کہیں نظرآتی ہیں گاؤں کے لوگ اپنی اکثر ضروریات شہر سے پوری کرتے ہیں۔ اس مختصر سی وضاحت کے بعد عرض یہ ہے کہ ان چھوٹے بڑے دیہاتوں میں (حتی کہ جنگلوں میں بھی) مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے، جبکہ احناف کے نزدیک جمعہ کی شرائط میں سے مصر(شہر)یا قریہ کبیرہ ہونا بھی ہے حالانکہ ان دیہاتوں پران میں سے کوئی بھی چیز صادق نہیں آتی،اس لیے کے ضروریات زندگی ان دیہاتوں میں پوری نہیں ہوتیں اورنہ ہی یہ دیہات فناء مصر میں داخل ہیں۔ باوجود ان شرائط کے انعدام کے ہر جگہ جمعہ کی نمازادا کی جاتی ہے اور لازمی بات ہے کہ جمعہ کاآغاز اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی علماءکرام کی زیر نگرانی ہوتی ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ ان چھوٹے گاؤں میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں۔

جواب

جمعہ کے وجوب ادا کے لئے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ جگہ شہر ہو یا فناء شہرہو یا بڑا گاؤں ہو۔موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں تو اس میں نماز جمعہ جائز ہے، لیکن جہاں کہیں یہ شرائط مفقود ہوں وہاں نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی حاکم یا اس کا نائب  کسی جگہ جمعہ پڑھنے کا حکم دے تو اس سے وہاں  شرعا جمعہ پڑھنا جائز ہوجائےگا۔ نیز اگر کسی جگہ نماز جمعہ پہلے سے ادا ہوتی ہو اور اس کو منع کرنے سے آپس میں انتشار اور فتنہ برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس جگہ نماز جمعہ باقی رکھنے کی گنجائش ہے۔

 

"لا ‌تصح ‌الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع."(الهداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:82)

"درء المفاسد أولى من جلب المنافع، أى إذا تعارض مفسدة و مصلحة، قدم رفع المفسدة لأن اعتناء الشرع بالمنهيات أشد من إعتنائه بالمأمورات."(شرح المجلة، سليم رستم باز، المادة:30،32)

"قلت: و هذا وإن كان غيرموافق لماعليه الحنفية، ولكنه أشد موافقة للمصالح الاسلامية الاجتماعية خصوصا فى هذا القطروفي هذا الزمان، فإن أعداء الإسلام يظفرون بمقاصدهم المشوعة فى قرى لا تقام فيها الجماعة ويخيبون فى مواضع إقامة الجمعة، والتوفيق من الله عزوجل. وحفاظة الإسلام خيرمن الإصرارعلى تركها، والمسئلة مجتهد فيها."(كفايت المفتى، باب الصلاة،جواب:388، ص:251 )


فتویٰ نمبر : 10157/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں