بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو بوسہ دینا


سوال

کیا میاں بیوی ایک دوسرے کی شرم گاہ کو غلبہ شہوت یا غلبہ محبت کی بنا پر بوسہ دے سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ میا ں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کی شرمگاہ  کو بوسہ دینا  غیر شریفانہ اور غیر مہذب عمل ہے،شریعت میں جماع کے آدا ب  میں سے یہ بھی ہے کہ بقدر ضرورت ستر کھولا جائے،بالکل ننگا ہو کر جماع نہ کیا جائے اور نہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو بلا ضرورت دیکھا جائے ۔

لہذا میاں بیوی  کا آپس میں ایک دوسرے کی  شرم گاہ کو غلبہ شہوت یا غلبہ محبت کی بنا پر بوسہ دینا ایک غیر اخلاقی اور نامناسب عمل ہے اس میں نجاست غلیظہ کا منہ میں جانے کا امکان  بھی ہے۔ اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 

عن عتبة بن عبد السلمي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أتى أحدكم أهله فليستتر ‌ولا ‌يتجرد تجرد العيرين۔ (سنن   ابن ماجه ،باب الستر عند الجماع ،رقم الحديث1961)

أذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته فقد قيل :يكره ؛لأنه موضع قراءةالقرآن،فلايليق به ادخال الذكر فيه ،وقدقيل بخلافه.(المحيط البرهاني،الفصل الثاني ولثلاثون في المتفرقات ،ج:5،ص:297)


فتویٰ نمبر : 5975/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں