بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جانورں میں شرکت کا حکم


سوال

زید اور عمرو آپس میں یوں معاملہ کرتے ہیں کہ زید بکریاں خرید کر پالنے کےلیے عمرو کو دے گا اور عمرو بکریوں کا فارم بنانے اور ان کے لیے چارہ وغیرہ کاشت کرنے کے لیےاپنی زمین دے گا۔ فارم بنانے کے جتنے اخراجات ہوں گے وہ زید برداشت کرے گا۔ اور جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کے لیے چارہ وغیرہ اپنی زمین پر کاشت کرنے کے اخراجات عمرو برداشت کرے گا۔ البتہ صرف ونڈا خریدنے کا خرچہ دونوں برداشت کریں گے۔ نیز اگر کوئی بکری مر جاتی تو وہ نقصان زید کا شمار ہوگا۔ دو ، تین سال بعد جب بکریاں بیچیں گے تو منافع آپس میں دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔اور بالفرض اگر نقصان ہوتا ہے تو وہ نقصان صرف زید ہی برداشت کرے گا۔ نیز یہ معاملے کرتے وقت زید عمرو کو ایک گائے بھی دیتا ہے اور اسے کہتا ہے اس کا دودھ بکریوں کے پالنے کے عوض بطورِ اجرت ملے گا۔ نیز ساتھ ساتھ جو بکریوں کا دودھ ہوگا وہ بھی عمرو کو بطورِ اجرت ملےگا۔ واضح رہے کہ معاملہ ختم ہونے کے بعد عمرو وہ گائے زید کو واپس کرے گا البتہ اگر اس پوری مدت کے دوران گائے کا کوئی بچہ وغیرہ ہوتا ہے وہ عمرو کا ہوگا ، اس کو وہ واپس نہیں کرے گا۔ لہذا آپ حضرات سے درجِ ذیل امور میں رہنمائی درکار ہے: 1۔زید اور عمرو نے آپس میں جو معاملہ کیا ہے اس کی شرعاحیثیت کیا ہے؟ نیز معاملہ جائز ہے یا ناجائز ؟ اگر ناجائز ہے تو متبادل جائز صورت بھی ذکر کردیں۔ 2۔ بکریاں پالنے کے عوض میں عمرو کے لیے جو اجرت طے کی گئی ہے اس کا شرعاکیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایک طرف سے محنت ہواور دوسری طرف سے معاوضہ تو اس کو اجارہ کہتے ہے۔اور دو یا زیادہ اشخاص مل کر کاروبار کریں جس میں نفع اورنقصان میں دونوں شریک ہوں تو یہ شرکت کہلاتا ہے۔لیکن جہاں پر نہ اجارہ ہو ، نہ شرکت ہواور نہ کوئی اورجائزعقد تو ایسا معاملہ جائز نہیں ۔صورتِ مسئولہ میں جانوروں کو شرکت پر دینے کی بیان کردہ  صورت ناجائزہے ،کیونکہ یہ اجارہ اورشرکت دونوں  کےشرائط کےخلاف ہے۔جب جانور ایک شخص کے ہوں ہو مثلاً جانور زید کےہوں اور وہ خالد کو دے دےکہ اس کے چارہ پانی کا بند وبست کرواور اس کا منافع نصف نصف ہوگاتویہ صورت جائز نہیں ،لہذااس صورت میں دودھ،بچےاور نفع نقصان سب مالک کے ہوں گے اور پالنے والےکو چارہ کھلانے اور دیکھ بھال کی اُجرت ملے گی ۔البتہ اس معاملے کی جواز کی صورتیں یہ ہیں:

۱۔ایک صورت یہ ہے کہ جانور پالنے والےکی اُجرت متعین کی جائے، تو اس صورت میں دودھ ،بچےاور نفع نقصان سب مالک کاہوگااورپالنےوالے کو  متعینہ اُجرت ملے گی۔

۲۔جانور کامالک آدھا حصہ آدھی قیمت پر  پالنے والے کو  بیچ کروہ پیسے معاف کردے تو  دونوں کے درمیان وہ جانور مشترک ہوجائیں گے پھر دونوں اس جانور کے دودھ،بچوں اور نفع نقصان میں برابر کے شریک ہوں گے ۔

۳۔دونوں پیسے ملاکر جانور  خریدیں اس صورت میں ہر ایک اپنی مالیت کے بقدرجانورں کامالک ہوگا،اور اسی طرح مالیت کے حساب سے دودھ اور بچوں میں بھی شریک ہوں گے ۔

 

رجل دفع بقرة إلى رجل بالعلف مناصفة وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان فهذا فاسد والحادث كله لصاحب البقرة والإجارة فاسدة. (خلاصة الفتاوی،کتاب الإجارة،ج:3،ص:114)

دفع ‌بقرة ‌إلى ‌رجل ‌على ‌أن ‌يعلفها ‌وما ‌يكون ‌من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما وكذا لو دفع الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزر الفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز. (الفتاوی الهنديه،کتاب والإجارة،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز من والإجارةومالا یجوز،ج:4،ص:481)

والحيلة في تجويزهذاالتصرف أن يبيع نصف البقرة من المرفوع إليه بثمن معلوم ويسلم البقرةإليه ويبراءمن الثمن ثم يأمره بأن يتخذمن لبنهاالمصل وسمن وغيره ذلك فيكون ذلك بينهما.)خلاصة الفتاوى، کتاب والإجارة،ج:3،ص:114)


فتویٰ نمبر : 3744/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں