بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شرائط جمعہ مفقود ہونے کے باوجود دیہاتوں میں جمعہ کی نماز پڑھنا


سوال

میرا تعلق آزاد کشمیر سےہے، جس کا اکثر حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے، وہاں شہروں کی بنسبت دیہاتوں کا غلبہ ہے، سینکڑوں گاؤں کے لیے ایک شہر مرجع ہوتا ہے اور یہ معاملہ تقریباً پورے کشمیر میں ہے، ان گاؤں اور دیہاتوں میں چھوٹی بڑی مساجد، چھوٹے چھوٹے مدرسے، سرکاری اسکول، پرائیویٹ اسکول اورحسبِ ضرورت کریانہ کی دکانیں موجود ہوتی ہیں، لیکن گاؤں کےلوگ اپنی اکثر ضروریات شہر سے پوری کرتے ہیں۔ اس مختصر سی وضاحت کے بعد عرض یہ ہے کہ ان چھوٹے بڑے دیہاتوں کی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے، جبکہ احناف کے نزدیک جمعہ کی شرائط میں سےمصر(شہر)یا قریہ کبیرہ کا ہوناضروری ہے، حالانکہ ان دیہاتوں پر ان میں سے کوئی بھی چیز صادق نہیں آتی، اس لیے کہ ضروریات زندگی ان دیہاتوں میں پوری نہیں ہوتیں اور نہ ہی یہ دیہات فناء مصر میں داخل ہوتے ہیں۔ ان شرائط کے انعدام کے باوجود ہر جگہ جمعہ کی نماز اد ا کی جاتی ہے۔ یہ ایک عام فضا ہے، حالانکہ دیہات میں شرائط نہ پائے جانےکی وجہ سے جمعہ کی نماز فرض ہی نہیں ہوتی، ان سب کے باوجود نہ تو کوئی عالم یا مفتی اس عمل کو روکنے والا ہے اور شاید اس قدر عموم ِبلوی کو روکنا ممکن بھی نہیں، فتنے فساد کا اندیشہ بھی قوی ہے۔ اس تمام تر گفتگو کے بعد سوال یہ ہے کہ اس قدر ابتلاء عام کی وجہ سے اس بات کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ علماءاحناف ضرورت کے پیش نظر دیگر ائمہ کے قول پر فتوی جاری فرمائیں اور دیہات میں جمعہ کی اجازت دے دیں ۔

جواب

فقہائے احناف کے ہاں نمازِ جمعہ  کی صحتِ ادا کے لیے من جملہ دیگر شرائط کے ایک شرط یہ ہے کہ وہ جگہ مصرہو یا وہ  بڑا گاؤں ہو جس میں شہر کی طرح سہولتیں پائی جاتی ہوں۔ہر زمانے کے فقہیہ نے اپنے زمانے کے حالات اور عرف کو مدنظر رکھتے ہوئے مصر  یا بڑےگاؤں کی تعریف کی ہے ۔تاہم موجودہ زمانے میں جس علاقے  کی مستقل  آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور ضروریاتِ زندگی دستیاب ہوں تو وہ بڑے گاؤں کہلائے گا،چنانچہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہوگااور وہ علاقے جو اس کے توابع میں داخل ہوں، وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا۔ نیز جہاں شرائط مفقود ہونے کے باوجود نماز جمعہ ادا ہوتی ہو اور اس کو بند کرنے سے انتشار اور فتنہ کا اندیشہ ہوتو ایسی صورت میں اس جگہ نمازِ جمعہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق جن مقامات میں جمعہ کی صحتِ ادا کی شرائط موجودنہ ہوں لیکن نماز جمعہ ادا کی جاتی ہو، اور اس کو بند کرنے سے انتشار اور فتنہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو، تو ایسی صورت میں ان دیہاتوں میں نمازِ جمعہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔

 

لا تصح الجمعة إلا في ‌مصر ‌جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى.(الهداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:82)

أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)

‌درء ‌المفاسد أولى من جلب المنافع.أي: إذا تعارضت مفسدة ومصلحة يقدم دفع المفسدة على جلب المصلحة، فإذا أراد شخص مباشرة عمل ينتج منفعة له، ولكنه من الجهة الأخرى يستلزم ضررا مساويا لتلك المنفعة أو أكبر منها يلحق بالآخرين، فيجب أن يقلع عن إجراء ذلك العمل درءا للمفسدة المقدم دفعها على جلب المنفعة؛ لأن الشرع اعتنى بالمنهيات أكثر من اعتنائه بالمأمور بها.(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:30، ج:1، ص:41)

واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني ‌أن ‌كسالى ‌العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا، وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب العيدين، ج:2، ص:171)

قلت وهذا و إن كان غير موافق لما عليه الحنفية ولكنه أشد موافقة لمصالح الإسلامية الإجتماعية خصوصا في هذا الزمان فإن اعداء الإسلام يظفرون بمقاصد هم المشومة في قرى لاتقام فيها الجمعة ويخيبون في مواضع إقامة الجمعة والتوفيق من الله عزوجل.وحفاظة الإسلام خير من الإصرار على تركها والمسئلة مجتهد فيها.(كفايت المفتي، كتاب الصلاة، ج:3، ص:251)


فتویٰ نمبر : 10190/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں