بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
موبائل میں " اللہ اکبر" بطورِ گھنٹی ڈالنا
سوال
بعض لوگ موبائل میں "اللہ اکبر"بطورِ گھنٹی ڈالتے ہیں، بسا اوقات فون اٹھانے کی وجہ سے "اللہ اکبر "درمیان سے کٹ جاتاہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا ازروئے شریعت جائزہے یانہیں؟
جواب
اللہ تعالی کا ذکر ایک ایسی مقدس اور پاکیزہ عبادت ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تعالی کے قریب ہوتا ہے۔ اس لیے ثواب کی نیت کےعلاوہ دوسرے مقاصد کے لیے اس کا استعمال اس کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، اسی وجہ سے دنیوی مقاصد کے لیے اذکار کو استعمال کرنا مکروہ ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ موبائل میں گھنٹی کی آواز کا بنیادی مقصد اطلاع ہوتاہے، اس لیے اس میں "اللہ اکبر" بطورِ گھنٹی ڈالنا ٹھیک نہیں، اس میں بے ادبی کا خطرہ بھی ہوتاہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ آواز ایسی جگہ شروع ہوجائے، جہاں اس کی تعظیم کی رعایت ممکن نہ ہو۔ لہذا اس کی بجائے کوئی دوسری جائز آواز نصب کرنی چاہیے۔
من جاء إلى تاجر يشتري منه ثوبا فلما فتح التاجر الثوب سبح الله تعالى وصلى على النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم أراد به إعلام المشتري جودة ثوبه فذلك مكروه هكذا في المحيط. ۔ ۔ ۔ حارس يقول: لا إله إلا الله أو يقول: صلى الله على محمد يأثم؛ لأنه يأخذ لذلك ثمنا، بخلاف العالم إذا قال: في المجلس صلوا على النبي، أو الغازي يقول: كبروا حيث يثاب، كذا في الكبرى.وإن سبح الفقاعي أو صلى على النبي - صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم - عند فتح فقاعه على قصد ترويجه وتحسينه، أو القصاص إذا قصد بها. (كومئ هنكامه) أثم، وعن هذا يمنع إذا قدم واحد من العظماء إلى مجلس فسبح أو صلى على النبي صلى الله عليه وآله وأصحابه إعلاما بقدومه حتى ينفرج له الناس أو يقوموا له يأثم هكذا في الوجيز للكردري.(الفتاوى الهنديه، كتاب الكراهية، ج:5، ص:315)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں