بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نسبی بھائی کی رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنا


سوال

میری دادی نے میرے بڑے بھائی زبیر احمد کو بچپن میں دودھ دیا ہے،میرے اور میرے دوسرے بھائی بلال احمد کی  منگنیاں اپنی پھوپھی کی بیٹیوں سے طے ہو گئی ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا ان لڑکیوں سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 اگر کوئی عورت مدت رضاعت  میں کسی بچے کو دودھ پلائے، تو جس طرح وہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں اوراس عورت کے بیٹے اور بیٹیاں اس کے رضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں، اسی طرح اس عورت کے پوتے اور پوتیاں اس  بچے کے بھانجے اور بھتیجے بن  کر اس پر حرام ہو جاتے ہیں،تاہم حرمت کا حکم دودھ پینے والے بچے  تک محدود رہتا ہے، دودھ پینے والے بچے کے نسبی بہن بھائیوں کو یہ حرمت شامل نہیں ہوتی۔

 صورتِ مسئولہ میں زبیر احمد نے چوں کہ دادی کا دودھ پیا ہے، اس لیے پھوپھی اس کی رضاعی بہن اور اس کی بیٹیاں اس کی رضاعی بھتیجیاں بن کر اس پر حرام ہیں، البتہ زبیر احمد کے دوسرے نسبی بھائیوں   کا نکاح پھوپھی کی بیٹیوں کے ساتھ شرعاًجائز ہے بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للإبن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، باب الرضاع،ج:3،ص:217)

ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب.(الهداية، كتاب الرضاع:ج:2،ص:371)


فتویٰ نمبر : 7005/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں