بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

"اگرمیں نے تمہارے ہاتھ کی کمائی کھائی تو میری بیوی کو تین طلاق "کہنےکا حکم


سوال

ایک شخص اپنے تین بیٹوں کے ساتھ رہتا ہے ، تینوں بیٹے گھر میں شریک ہیں اور مل کر گھر کا سودا لاتے ہیں، جس کو سب گھر والے استعمال کرتے ہیں۔ اس شخص نےان میں سے ایک بیٹے سے تقریباً تین مہینے پہلےکہا کہ ’’اگر میں نے تمہارے ہاتھ کی کمائی کھائی تو  میری بیوی کو تین طلاق ہوں گے‘‘ اور اس کے بعد بھی یہ باپ گھر میں رہ کر ان کی مشترکہ  کمائی استعمال کر رہا ہے تو کیا اس کی بیوی کو طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟

جواب

 جب طلاق کسی شرط سے معلق کی جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں جس شخص نے بیٹے سے یہ کہا ہےکہ:’’ اگر میں نے تمہارے ہاتھ کی کمائی کھائی تو میری بیوی کو تین طلاق ہوں گے‘‘ تو اگر اس کے بعد بھی اس شخص نےگھر میں رہ کر اس مشترکہ  کمائی  کواستعمال کیا ہوجس میں اس بیٹے کی کمائی بھی شامل تھی ،تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر بیوی اس پر ہمیشہ کےلیے حرام ہوگی لہذاازدواجی تعلق قائم نہیں کرسکتے ۔

 

إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)

لا يحل للرجل أن يتزوج حرة طلقها ثلاثا قبل إصابة الزوج الثاني.(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:282)


فتویٰ نمبر : 7002/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں