بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گودام کے اوپر بنائی گئی مسجد گرانا


سوال

مارکیٹ کے ایک حصے میں گودام ہے، اس گودام کے اوپر مسجدبنائی گئی ہے، یہ جگہ مسجد کے لیے وقف نہیں  بلکہ پینتیس سال سے اس پر گودام قائم ہے، کیا اس مسجد کا گرانا یا اس  جگہ کی خرید و فروخت جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی جگہ کے شرعی مسجد بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو اس طرح  وقف کیا جائے، کہ  کسی کا ذاتی حق اس سے متعلق نہ ہو، اگر کوئی شخص ایسی جگہ پر مسجد بنائے،جو ذاتی مقاصد میں استعمال ہوتی ہو، مثلاً  ذاتی مارکیٹ، گودام یا مکان کے اوپر مسجد بنائی جائے، تو یہ شرعی مسجد نہیں ہوتی بلکہ اس کی حیثیت مصلی (جائے نماز)کی ہو تی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں گودام کے اوپر نماز کے لیے بنائی گئی جگہ مصلی کے حکم میں ہے، لہذا اس پر مسجدِ شرعی کے احکامات لاگونہ ہوں گے ، چنانچہ اس  کو گرانایا اس جگہ کو فروخت کرنا جائز ہے۔

 

ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله عن ملكه فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز.( الهداية، كتاب الوقف، ج:2،ص:622)

ولا بد من إفرازه أي تمييزه عن ملكه من جميع الوجوه فلو كان العلو مسجدا والسفل حوانيت أو بالعكس لا يزول ملكه لتعلق حق العبد به.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب في أحكام المساجد ،ج:4،ص:356)

وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه.(البحر الرائق، كتاب الوقف، فصل دي أحكام المساجد: ج:5،ص:421)

 


فتویٰ نمبر : 10163/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں