بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/07/2026

دارالافتاء

 

ایک کمرہ کو مسجد کےلیے وقف کرنا


سوال

ایک شخص نے دس مرلے پلاٹ پر چار دیواری کی اور اس میں دو کمرے بنائے پھر اس کو مفاد عامہ کےلیے وقف کیا، لیکن اس میں ایک کمرا مسجد بنایا  اور اس میں باقاعدہ  نمازیں  پڑھنا بھی شروع کیں اور  دوسرا کمرا کو  حجرہ کے طور پر استعمال  کرتا تھا، لیکن صحن کے بارے میں کوئی تصریح نہیں کی ہےاب وہ شخص فوت ہوچکا ہے تو اس عمارت کےصحن  کو مسجد کا حصہ بنایا جائے گا یا حجرہ کا، جب کہ واقف کی زندگی میں صحن دونوں ( مسجد اور حجرہ) کے مفاد کےلیے استعمال ہوتا تھا؟

جواب

واضح رہے کہ واقف جو چیز جس مقصد کےلیے وقف کرے اور اس  مقصد میں ایک مرتبہ استعمال ہوجائےتو اس سے وقف تام ہوجاتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جب واقف نے پلاٹ کی چاردیواری کے اندر  دو کمروں میں سے ایک کمرا مسجد کےلیے وقف کیا ہے اور اس میں باقاعدہ نمازیں پڑھنا بھی جاری ہوچکا ہے تو یہ کمرا مسجد  شمار ہوگا اور  صحن اگر چہ مسجد اور حجرہ دونوں کے مفاد کےلیے استعمال ہوا ہے، لیکن جب تک واقف نے اس کو باقاعدہ مسجد کے لیے وقف نہ کیا ہو تو یہ مسجد  کا حصہ شمار نہیں ہوگا۔

 

وأجمعوا على أن من جعل داره أو أرضه مسجدا يجوز، وتزول الرقبة عن ملكه لكن عزل الطريق وإفرازه والإذن للناس بالصلاة فيه، ‌والصلاة ‌شرط ‌عند ‌أبي ‌حنيفة ‌ومحمد، حتى كان له أن يرجع قبل ذلك. ( بدائع الصنائع، كتاب الوقف، ‌‌فصل في شرائط جواز الوقف وبعضها يرجع إلى الواقف، ج: 8، ص: 392)

الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات. (بدائع الصنائع، کتاب الوقف، ج: 8، ص: 396 )

والحاصل: أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو محمد يكون بأحد طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو بحصول المقصود وذلك بالسكنى في مسألة الدار، وبالنزول في مسألة الخان، وبالدفن في مسألة المقبرة وما أشبهه ذلك. ( المحیط البرھاني، كتاب الوقف، الفصل الثاني والعشرون: في المسائل التي تعود إلى الرباطات۔۔۔ الخ،ج: 6، ص: 217)


فتویٰ نمبر : 5944/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں