بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

دراہم جمع کر کے قرعہ اندازی کرنا


سوال

دبئی میں حکومتی سطح پر ایک سكيم ہے جس ميں   لوگ ہزار (1000) دراہم   جمع کرتے ہیں پھر قرعہ اندازی ہوتی ہے ، جس میں بڑی رقم دی جاتی ہے لیکن جن  کا نام نہیں نکلتا اس کو اس کے   دراہم  واپس نہیں دیے جاتے کیا اس طرح کا معاملہ کرنا  جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 جس سکیم  میں کئی لوگ پیسے ڈال کر شریک ہوں ، اور پھرکسی ایک شخص کا نام  قرعہ اندازی سے نکل آئے اور اس کو اپنی ادا کردہ رقم سے زیادہ رقم ملے جب کہ  باقی لوگوں کے پیسے ضائع ہو جائیں تو  یہ جوے کے حکم میں داخل  ہونے کی بنا پر جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق   اگر قرعہ اندازی میں شریک ہو نےوالے ہر شخص سے ایک ہزار دراہم  لیئے جائیں، اورجس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آئے اس کو  بڑی رقم دی جائے جب کہ  باقی سب لوگ  محروم ہو جائیں  یہ جوا میں شمار ہوتا ہے لہذا یہ  حرام ہے۔

 

 (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار ‌من ‌القمر ‌الذي ‌يزداد ‌تارة ‌وينقص ‌أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع،ج:٢،ص:٤٠٣)

استعمال القرعة تعليق الاستحقاق بخروج القرعة وهو في معنى ‌القمار والقمار حرام.(فتح القدير،كتاب القسمة،ج:٩،ص:٤٤٠)


فتویٰ نمبر : 3607/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں