بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو"تم میرے لیے میری بہنوں کی طرح ہوگی" کے الفاظ کہنا


سوال

ایک لڑکی کا نکاح ہو گیا،نکاح کے ایک مہینہ بعد لڑکی ماں کے گھر جانا چاہتی تھی لیکن شوہر نے کہا کہ ”اگر تم میرے گھر سے نکلی تو تم میرے لیے میری بہنوں کی طرح ہوگی" لیکن لڑکی اپنی ماں کے گھر چلی گئی اورپھر واپس شوہر کے گھر آئی ۔ان الفاظ کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر كوئی شوہر اپنی بیوی کی تشبیہ محرمات ابدیہ کے ساتھ ایسے الفاظ سے دے کہ جن میں ظہار کے علاوہ دوسرے معنی کا بھی احتمال ہو، تو اس میں اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا،اگرتشبیہ دینے سے شوہر کی نیت محرمات ابدیہ جیسا احترام ہو تواس سےکچھ بھی واقع نہ ہوگا اور اگر اس سے طلاق کا ارادہ ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور اگر ظہار مراد ہو تو ظہار کا حکم لگے گا۔

لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کے ان الفاظ  "اگر تم میرے گھر سےنکلی توتم میرے لیے میری بہنوں کی طرح ہوگی" میں نیت کا اعتبار ہوگا، اگر ظہار کی نیت ہو تو ظہار معلق ہوگا اور اگر طلاق کی نیت ہو توطلاق معلق ہوگی، البتہ اگر عرف و عادت میں اور علاقائی محاورات میں بیوی کو "بہن" کے ساتھ تشبیہ دینے سے طلاق ہی مراد لی جاتی ہو تو مذکورہ الفاظ سے طلاق معلق شمار ہوگی چنانچہ اس صورت میں اگر بیوی اپنی ماں کے گھر چلی گئی تھی تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے۔

 

ولو قال: أنت علي كأمي أو مثل أمي يرجع إلى نيته فإن نوى به الظهار كان مظاهرا، وإن نوى به الكرامة كان كرامة، وإن نوى به الطلاق كان طلاقا، وإن نوى به اليمين كان إيلاء؛ لأن اللفظ يحتمل كل ذلك إذ هو تشبيه المرأة بالأم فيحتمل التشبيه في الكرامة والمنزلة أي أنت علي في الكرامة والمنزلة كأمي ويحتمل التشبيه في الحرمة ثم يحتمل ذلك حرمة الظهار ويحتمل حرمة الطلاق وحرمة اليمين فأي ذلك نوى فقد نوى ما يحتمله لفظه فيكون على ما نوى.وإن لم يكن له نية لا يكون ظهارا عند أبي حنيفة وهو قول أبي يوسف۔ (بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في شرائط الظهار، ج:5، ص:8)

والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين، فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:4، ص:530)


فتویٰ نمبر : 6995/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں