بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تجدید نکاح کے بعد سابقہ مہر کا مطالبہ کرنا


سوال

میری شادی کے تین سال بعد ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے ذریعے علیحدگی ہو گئی تھی اور تقریباً دو سال کے بعد دوبارہ حلالہ کے بعد ہمارے درمیان نکاح ہوا، اب پوچھنا یہ ہے کہ جو پہلے والا حق مہر تھا اس کا ادا کرنا میرے اوپر لازم ہے یا نہیں؟ اور کیا بیوی اس کے مطالبہ کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہوجائے وہ بیوی کا حق ہوتاہے، اور شوہر پر اس کا ادا کرنا واجب ہو تاہے، چنانچہ مہر مؤکدہونے کے بعد جب تک  بیوی اسے معاف نہ کرے اس وقت تک ساقط نہیں ہوتا اگرچہ بیوی کو طلاق دی جائے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرواقعی شوہر نے نکاح والا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا تھا تو شوہر پر اس مہر کی ادائیگی بھی لازم ہے،  طلاق سے وہ ساقط نہیں ہوا، چنانچہ بیوی کو اس مہر کے مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

 

وإذا خلا الرجل بامرأته وليس هناك مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر۔ (الهداية، كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:58)

فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة. الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق۔ ( بدائع الصنائع، کتاب النکاح، فصل بيان ما يتأكد به المهر، ج:3، ص:291)


فتویٰ نمبر : 6999/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں