بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

میسج کے ذریعے تین طلاق دینا


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو  سادہ  موبائل پر  ٹیکسٹ میسج کے ذریعے  طلاق کے الفاظ بھیج دے اور یوں کہے (ما باندی خزہ طلاقہ)"مجھ پر بیوی طلاق" اور یہی  الفاظ تین مرتبہ بھیجےتو اس کا کیا حکم  ہے ؟

جواب

  واضح رہے کہ جس طرح زبان سے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح میسج میں  طلاق لکھ کر بھیجنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

صورت مسئولہ  کے مطابق اگر واقعی مذکورہ شخص نے میسج میں (ما باندی خزہ طلاقہ) کے الفاظ لکھ کر  تین مرتبہ بیوی کو بھیجے ہوں   تو اس سے تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں،لہذادونوں کا میاں بیوی کی  حیثیت سے زندگی گزار نا حرام ہے ۔

 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: ‌الطَّلَاقُ ‌وَالنِّكَاحُ وَالرَّجْعَةُ "۔(سنن الدارقطنى ،باب المهر،رقم الحديث3638)

قوله :(كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔(رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب الطلاق، ج:3،ص:246)


فتویٰ نمبر : 6992/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں