بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ایسے سامان کا حکم جس کا مالک معلو م نہ ہو


سوال

میراہو ٹل ہے  لوگ کھانے پینے کے لیے  آتے  جاتے ہیں  کبھی کھبار  بعض لوگوں   سے گھڑی ، رومال ،بال پوائنٹ،عینک وغیرہ رہ جاتے ہیں     ہمیں ان لوگوں  کا علم نہیں ہوتا کہ کون ہے  اور کدھر کے ہیں  اور نہ ان کے ساتھ کوئی رابطہ وغیرہ   ہوتا   ہےتو ایسے سامان کے  استعمال اور  تشہیر کا کیا حکم ہے ؟

جواب

 شرعی نقطہ نظر سے  کسی کو  کوئی چیز مل جائے اوراس کا مالک معلوم نہ ہو تو اس   کو  لقطہ کہتے ہیں، ایسی چیز ضائع ہونے کے خوف کی صورت میں اٹھا نا واجب ہے اور اگر ضائع ہونے کا خوف نہ ہوتو پھر اٹھانااگر چہ واجب نہیں لیکن بہتر ہے لقطہ کی نوعیت کو دیکھ کر اس کی تشہیر کی جائے  گی ،چنانچہ  اگروہ چیز جلد خراب ہونے والی ہو ، جیسے پھل،سبزی  وغیرہ تو اسے اتنے وقت تک نہ رکھا جائے کہ  خراب ہو جائے اور اگر خراب ہونے والی  چیز نہ ہو  جیسے گھڑی ،رومال  بال  پوائنٹ  ،عینک  وغیرہ تو  اس وقت تک  تشہیرکی جائے جب تک غالب گمان یہ ہو کہ مالک اس کو تلاش کرے گا اور جب  یہ غالب گمان  ہو جائے کہ اب مالک اس کو تلاش نہیں کرے گا تو پھراگراٹھانے والافقیر ہوتو خود استعمال کرسکتا ہے  اورا گرمالدار ہوتو وہ  چیز  غر با پر صدقہ کرے۔

صورت مسئولہ کے مطابق ہوٹل  میں کسی سے رہ جانے والا سامان لقطہ کے حکم میں ہے ،لہذا لقطہ کی  نوعیت دیکھ کر اس کے مطابق اس کی تشہیر کی جائے اوراسے   محفوظ رکھا جائے ۔اور جب اتنا وقت گزر جائے کہ لقطہ اٹھانے والے کا غالب گمان ہو  جائے کہ اب مالک اس کی تلاش نہیں کرے  گا تو لقطہ اٹھانے والے کے لیے اس شرط کے ساتھ لقطہ کو ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے کہ وہ فقیر ہو ، اور اگر مالدار ہو تو پھر اس  کو غربا پر صدقہ کرے ۔اور  اگر  مالک مل جائے اور وہ اس پر راضی نہ ہو تو لقطہ اٹھانے والے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ  مالک کو اس کی قیمت ادا کرے ۔

 

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌سئل ‌عن ‌اللقطة؟ قال: "لا تحل اللقطة، من التقط شيئا فليعرفه، فإن جاء صاحبها فليردها إليه، وإن لم يأت فليتصدق بها، فإذا جاء فليخيره بين الأجر، وبين الذي له"۔( المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه أحمد، رقم الحديث:٢٢٠٧)

 هي مال يوجد في الطريق ولا يعرف له مالك بعينه، كذا في الكافي التقاط اللقطة على نوعين: نوع من ذلك يفترض وهو ما إذا خاف ضياعها، ونوع من ذلك لا يفترض وهو ما إذا لم يخف ضياعها ولكن يباح أخذها أجمع عليه العلماء ۔ ۔ ۔ ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق، والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعدذلك هو الصحيح ۔ ۔ ۔ إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف،كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء (الفتاوی الهندية،کتاب اللقطة،ج:٢،ص:٣٠٠)


فتویٰ نمبر : 5949/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں