بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/07/2026

دارالافتاء

 

جہاں اپنی زمین کھیت وغیرہ ہو، وہاں پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں قصر


سوال

میرا گھر ضلع کرم کے ایک گاؤں "سرخاوی درہ " میں ہے، جہاں میرے والدین اور اہلیہ وغیرہ رہائش پزیر ہیں۔ یہ گاؤں شہر سے دور پہاڑوں میں واقع ہے۔ لیکن  میرے گاؤں سے تقریباً 40 کلو میٹر کے فاصلے پرشہر کے قریب "مین روڈ" پر واقع ایک دوسرا گاؤں "آڑاولی" ہے، جس میں میرے ماموں، چچا اور چچا زاد بھائی  رہتے ہیں، اس گاؤں میں ہماری زمین کھیت وغیرہ بھی ہے، البتہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہیں، اور ماموں کی ملکیت میں ہے، ہم نے تقسیم کا مطالبہ بھی نہیں کیا ہے اور نہ ہی فی الحال تقسیم کے مطالبہ کا ارادہ ہے۔ بسا اوقات میں سفر کے لیے نکلتا ہوں تو کچھ دن اپنے ماموں وغیرہ کے ہاں ٹھہرتا ہوں اور کبھی سفر سے واپسی پر گھر جاتے ہوئے چند ایام وہاں  گزارتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اس گاؤں میں مسافر شمار ہوکر قصر نماز پڑھوں گا یا مقیم شمار ہوکراتمام کروں گا؟

جواب

جو شخص شرعی سفریعنی اٹھتر(78) کلومیٹر یا اس سے زیادہ مسافت پر سفر  کے ارادے سے سفر شروع کرے، تو وہ اپنے گاؤں يا شہر کے حدود سے نکلنے کے بعد مسافر شمار ہوگا اور جب تک کسی جگہ پر پندرہ (15) دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ کرے، مسافر ہی شمار ہوگا۔ نیز سفر شرعی کی انتہا اپنے گاؤں یا شہر کے حدود میں داخل ہونے سے ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر گاؤں "آڑا ولی "میں سائل کی اپنی زمین کھیت وغیرہ ہو، لیکن اپنا گھر نہ ہو اور نہ ہی اپنے اہل وعیال کے ساتھ وہاں رہ رہاہو، تووہ اس کا وطن اصلی شمار نہ ہوگا۔ چنانچہ اگر وہ اپنے گاؤں "سرخاوی درہ"سےاس نیت سے سفر کے لیے نکلے کہ گاؤں"آڑاولی " میں کچھ دن قیام کروں گا اور پھر آگے سفر پر جاؤں گا، تو وہ گاؤں " آڑا ولی" میں اتمام کرے گا، کیونکہ ابھی تک اس نے سفر شرعی کا آغازنہیں کیا ہے۔ تاہم اگر وہ گھر سے سفر پر نکلتے وقت گاؤں "آڑاولی" میں کچھ دن ٹھہرنے کا ارادہ نہ کرے بلکہ مسلسل سفر جاری رکھنے کا ارادہ کرے، تو ایسی صورت میں اگر وہ گاؤں "آڑاولی " میں کچھ دیر کے لیے رک جائے تو وہاں مسافر شمار ہوگا اور قصر نماز ادا کرے گا۔ نیز سفر شرعی سے واپس آتے ہوئے گاؤں "آڑاولی" میں پندرہ (15) دن سے کم  قیام کی صورت میں مسافر ہی رہے گا اور نماز میں قصر کرےگا۔

 

يقصر حين يخرج من مصره ويخلف دور المصر، كذا في المحيط وفي الغياثية هو المختار وعليه الفتوى، كذا في التتارخانية الصحيح ما ذكر أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر لا غير إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر فحينئذ تعتبر مجاوزة القرى بخلاف القرية التي تكون متصلة بفناء المصر فإنه يقصر الصلاة وإن لم يجاوز تلك القرية، كذا في المحيط.وكذا إذا عاد من سفره إلى مصره لم يتم حتى يدخل العمران. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، ج:1، ص:139)

فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، ج:1، ص:97)


فتویٰ نمبر : 10142/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں