بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لڑکی سے زبردستی ایجاب و قبول کرانا


سوال

ہمارے ہاں بعض علاقوں میں خواتین سے پوچھے بغیر ان کا نکاح کرایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرایاگیا، وہ راضی نہیں تھی، لیکن اس سے زبردستی ایجاب وقبول کرایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح زبردستی ایجاب وقبول کرانے سے نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

ازدوجی زندگی میں خوشحالی اور اطمینان کے لیے ضروری ہے کہ نكاح ميں لڑکا اور لڑکی کی اجازت اور ان کی رضامندی کو ملحوظ رکھا جائے۔ تاہم اگر کسی لڑکی یا لڑکے کا نکاح زبردستی کرایا جائے اور وہ مجبوراًایجاب وقبول کرلیں ،تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی لڑکی سے زبردستی ایجاب قبول کرایا گیا تو اگر اس نے زبان سے ایجاب وقبول کیا ہو، تو نکاح منعقد شمار ہوگا۔

 

نكاح ‌المكره صحيح كطلاقه وعتقه مما يصح مع الهزل، ولفظ المكره شامل للرجل والمرأة.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب النكاح، ج:3، ص:21)


فتویٰ نمبر : 6996/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں