بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
قرض کی ادائیگی میں قبضہ دینے سے پہلے پیسوں کا چوری ہوجانا
سوال
ایک شخص اپنے لکڑیوں کی" ٹال" میں سویا ہواتھا۔ اس دوران اس کا ایک مقروض قرض ادا کرنے آیا اور دس ہزار روپے اس کے سامان ٹوپی، مسواک اور موبائل وغیرہ کے درمیان رکھ دیے، اس خیال سے کہ جب یہ شخص جاگ جائے گا، تو اپنے سامان کے ساتھ یہ روپے بھی اٹھالے گااور میں بعد میں اسے اطلاع دوں گا۔پھر اس کے بعد وہ روپے چوری ہوگئے ۔ اب قرضہ دینے والا شخص کہت اہے کہ میں تو سویا ہوا تھا، اور مقروض کہتاہے کہ میں نے تو آپ کے سامان کے ساتھ رکھ دیاتھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چوری ہونے والی رقم قرض دینے والے کی شمار ہوگی یا مقروض کی؟
جواب
جب قرض دار قرض ادا کرے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرض لی ہوئی رقم قرض دینے والے کی ملکیت میں دے یا اس کی اجازت سے کسی دوسرے شخص کو حوالہ کرے، چنانچہ اگر قرض دار نے قرض دینے والے کو یا اس کے وکیل کو مالک نہ بنایا ہو، تو ہلاک ہونے کی صورت میں مقروض ضامن ہوگا، اور اس کا ذمہ قرض کی ادائیگی سے فارغ شمارنہ ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مقروض نےقرض والی رقم قرض دینے والےکے سامان کے درمیان رکھی ہو جب کہ قرض دینے والا شخص سویا ہوا تھا اور پھر وہ رقم چوری ہوگئی ہو، تو چونکہ اس صورت میں وہ رقم قرض دینے والے کی ملکیت میں نہیں آئی ہے، لہذا چوری ہونے والی رقم مقروض کی شمار ہوگی، اور اس کے ذمے قرض کی ادائیگی بدستور باقی رہے گی۔
إذا أتى الوديعة ووضعها في منزل المودع فضاعت ضمن المستودع، وكذا لو دفعها إلى ابن المودع أو إلى عبده أو إلى أحد ممن في عياله فضاعت ضمن وكان القاضي الإمام أبو عاصم العامري يفتي به، وقيل: المودع إذا رد الوديعة إلى من في عياله لا يضمن، وقال المتأخرون: يضمن، وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي.(الفتاوى الهندية، كتاب الوديعة، الباب السابع: في رد الوديعة، ج:4، ص:304)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 902
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1199
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں