بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/10/2026

دارالافتاء

 

حج بدل میں حج تمتع کرنا


سوال

حج بدل کرنے والا کیا حج تمتع کر سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے حج بدل کررہا ہو تو اس کےلیے حج افراد کرنا بہترہے، لیکن آمر کی اجازت سے قِران یا  تمتع کرنا جائز ہے، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص حج بدل کررہا ہو تو اگر آمر نے حج تمتع کی اجازت دی ہو تو بلا شبہ اس کےلیے حج  بدل میں حج تمتع کرنا جائز ہے۔

 

وينبغي  للآمر أن يفوض الأمر إلي المأ مور، فيقول :حج عني كيف شئت مفردا أو قارنا زاد في اللباب أو متمتعا ۔۔۔ ففي الخانية قال الشيخ الامام أبو بكر محمد بن الفضل: إذا أ مر غيره أن يحج عنه أن يفوض الأمر إلي المأمور فيقول: حج  عني بهذا المال كيف شئت إن شئت حجة، وإن شئت حجة وعمرة وإن شئت قارنا والباقي من المال مني لك وصية كي لايضيق الأمر علی الحاج، ولا يجب عليه رد مافضل إلي الورثة. ( غنية الناسك، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، ص: 343)

 


فتویٰ نمبر : 10158/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں