بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/07/2026

دارالافتاء

 

ایک سے زیادہ لوگوں کوایصال ثواب


سوال

ایک شخص قربانی یا ختم قرآن یا دو چار رکعت نفل پڑھ کر اس کا ایصال ثواب پیغمبرﷺ، والدین اور آدم ؑ سے لے کر آج تک جتنے مسلمان فوت ہو چکے ہیں،ان کو بخشتا ہے،تو کیا ہر ایک کو پورا پورا ثواب ملتا ہے یا تقسیم ہوتا ہے؟ اس طرح عمل کرنے والے کو بھی اس عمل کا ثواب ملتا ہے یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے ایصال ثواب کی نیت سے جونیک اعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا اجر خود عمل کرنے والے کوبھی حاصل ہوتا ہے اور جن لوگوں کے  ایصال ثواب کے لیے یہ اعمال کیےجائیں،ان کو بھی ثواب پہنچتاہے۔جس طرح ایصال ثواب ایک شخص کے لیے کیا جا سکتا ہے، اسی طرح متعددمرحومین کو بھی ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے،علماء نے لکھا ہےکہ مختلف افراد کو ایصالِ ثواب کرنے کی وجہ سے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔لہذا اگر کوئی آدمی قرآن شریف کی تلاوت کرتا ہے یا اسی طرح کوئی اور اعمال کرتا ہے اور اس کا ثواب ایک سے زائدلوگوں  کو بھیجتا ہےتوہرایک کو اس کا ثواب پورا پورا ملے گا اور عمل کرنے والا بھی اپنے پورے اجر کا حق دار ہو گا، اور افضل بھی یہی ہے کہ ایصالِ ثواب کرتے ہوئے تمام مؤمنین اور مؤمنات کی نیت کی جائے۔

 

"عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ من حج عن والدیه بعد وفاتهما کتب له عتقاً من النار، وکان للمحجوج عنهما أجر حجة تامة من غیر أن ینقص من أجور هما شیئاً". ( شعب الإیمان،ج:6، ص:204، رقم الحدیث:7912)

"من ‌صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز."(ردالمحتارعلی الدر المختار،كتاب الصلوة،باب صلوة الجنائز ،مطلب في  القراءة للميت،ج:3 ،ص:152)

"والأصل ‌فيه ‌أن ‌الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك."(البحرالرائق ،كتاب الحج ،باب الحج غن الغير،ج:3,ص:105)

"قلت :لکن سئل ابن حجر المکي عما لو قرأ لأهل المقبرة الفاتحة: هل یقسم الثواب بینهم أو یصل لکل منهم مثل ثواب ذلك کاملًا؟ فأجاب بأنه أفتی جمع بالثاني، وهو اللائق بسعة الفضل". (رد المحتار، باب صلاة الجنازة، مطلب في القراءة للمیت و إهداء ثوابها له،ج:2، ص:244)

"الأفضل لمن یتصدّق نفلًا أن ینوي لجمیع المؤمنین و المؤمنات؛ لأنّها تصل إلیهم، ولاینقص من أجره شيءٍ اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة." (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الجنائز، مطلب في القراء ة للمیت وإهداء ثوابها له، ج:2، ص:243)


فتویٰ نمبر : 5987/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں