بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پاسپورٹ پر گاڑی خرید نے کے عوض رقم وصول کرنا


سوال

باہر ملکوں سے جب مسافر پاکستان آتے ہیں ،تو ادھر پاکستان میں بعض لوگ گاڑیوں کا  کاروبار کرتے ہیں وہ ان مسافروں سے پاسپورٹ لیتے ہیں اور اس پر اپنے لیے گاڑی نکالتے ہیں،اور پاسپورٹ والے کو معاوضہ کے طور پر کچھ رقم دیتے ہیں ۔اب دریافت امر یہ ہے کہ پاسپورٹ دے کر اس پرمعاوضہ لینا کیسا ہے، اور یہ معاوضہ اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے خدمات یا منافع کے عوض اجرت حاصل کرنا  اجارہ کہلاتا ہے ، عقد اجارہ کی شرائط میں  سے یہ بھی ہے کہ معقود علیہ مال متقوم ہو اور اس سے حاصل کی جانے والی منفعت منفعت  مقصودہ ہو چونکہ حکومت کی جانب  سے پاسپورٹ بین الاقوامی آمدورفت کے لیے جاری کیا جاتا ہے اوراس کی خریدوفروخت یا اجارہ پر دینے کی کوئی اجازت نہیں ہوتی،اس لیے پاسپورٹ دے کر اس پر منافع لینا جائز نہیں۔ صورت مسؤلہ کے مطابق کسی ایجنسی یا کسی شخص کو اپنا پاسپورٹ اس لیے دینا کہ وہ اس پر باہر سے گاڑی پاکستان لائے اور محض اس پاسپورٹ دینے کےعوض اجرت کی لین دین جائز نہیں، تاہم اگر حکومت کی جانب سے دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے پر پابندی نہ ہو تو بغیر کسی اجرت کے کسی دوسرے کے پاسپورٹ کو استعمال میں لاکر گاڑی منگوانا جائز ہے، لیکن اگر حکومت کی جانب سے اجازت نہ ہو تو جھوٹ ، دھوکہ اور قانون کی خلاف ورزی کی بناء پر بلا عوض کسی کو پاسپورٹ دینا بھی جائز نہ ہوگا۔

 

 

طاعۃ الإمام فيما ليس بمعصية فرض۔(بدائع الصنائع،كتاب السير،فصل في بيان احكام البغاة،ج:7،ص:140)

ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال۔(بدائع الصنائع،فصل واماالذي يرجع إلی المقصود عليه،ج:5،ص:549)

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة،وعلی هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالاوقاف۔(الدرالمختار علی التنویر الأبصار،كتاب البيوع،ج:4،ص:518)


فتویٰ نمبر : 3604/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں