بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

معذور شخص کےلئےنمازپڑھنےکاحکم


سوال

ایک شخص کے مثانے کا اپریشن ہوا ہے اس کو یورین  بیگ  (urine bag)لگایا ہوا ہے غیر اختیاری طور پرمسلسل  قطرات آتے رہتے ہیں اب اس کے لیے وضو اور نماز کا کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے نکلنے کی بیماری  ہو اور  یہ بیماری ایسی ہو کہ کسی ایک نماز کےپورے وقت میں اس کے لیے اتنا وقت بھی پاک رہنا ممکن نہ ہو جس میں وہ وضو کرکے  فرض نماز پاکی کی حالت میں  ادا کرسکے تو شریعت میں ایسا شخص معذور شمار ہوگا۔ اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کےوقت  وضو کرکے اس وقت کےاندر  تمام فرض ونفل عبادات اس وضو سے ادا کرسکتا ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  مذکورہ شخص معذور ہے اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کےوقت  وضو کرکے اس وقت کےاندرتمام فرض ونفل عبادات ادا کرسکتا ہے ۔

(‌وصاحب ‌عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لانه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحو (لكل فرض) اللام للوقت كما في - لدلوك الشمس.(الاسراء: 81) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالاولى۔(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب الطهارة،باب الحيض ۔ج1،ص504)

المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة،الباب السادس:فى الدماءالمختصةبالنساء،ج:1،ص95)

 


فتویٰ نمبر : 10140/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں